1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی

ججوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں شامل ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

default

جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا بھی اجلاس ہوا

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیق ہے۔ تین سال پر محیط اس جائزے کے بعد آئی سی جے نے اپنی رپورٹ پیر کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری کی۔

اس رپورٹ میں 40 ممالک کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جب کہ ان ممالک میں خفیہ جیلوں میں قید افراد پر تشدد کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کےساتھ ہی امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ پر دہشت پسندانہ حملوں سے قبل بین الاقوامی قوانین کہیں زیادہ مؤثر تھے جبکہ ترقی یافتہ ممالک نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر عالمی قوانین کا انحراف کیا ہے۔

آئی سی جے کی اس رپورٹ میں امریکہ کو بالخصوص انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے موردالزام ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت کو صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کی صورت میں انسانی ‌حققوق کے حوالے سے اپنا ریکارڈ بہتر بنانے کا ایک اچھا موقع ملا ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر جنوبی افریقہ کے سابق چیف جسٹس اور کمیشن کے رکن آرتھر چاسکالسن نے کہا کہ اس مطالعے کے دوران اس بات نے کمیشن کو حیرت زدہ کردیا کہ گزشتہ سات سال کے دوران بیشتر ممالک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انسانی حقوق کو کس قدر پامال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے، ان حالات پر غور کیا جائے اور ایسے قوانین کو ختم کیا جائے۔

رپورٹ میں انصاف کے نظام کو مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ مختصر دورانئے کے لئے ا‍ختیار کئے گئے اقدامات کو مستقل نہ بنایا جائے۔ دریں اثنا آئی سی جے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں اس صورت حال میں بہتری کا ایک موقع باقی ہے اور انسانی اقدار کو بچانے کی کوئی بھی کوشش ابھی کرنا ہو گی۔

کمیشن کی صدر اور اقوام متحدہ کی سابق کمیشنر برائے انسانی حقوق میری رابنسن کہتی ہیں کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون میں دہشت پسندانہ خطرات سے نمٹنے کے لئے بہترین طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہو گیا ہے، تمام ممالک انسانی حقوق کی جانب احساس ذمے داری کو بحال کریں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ مرکزی کردار ادا کرے۔

میری رابنسن کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اب کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہی تو بین االاقوا‍می قوانین کو درپیش ‌خطرات مستقل صورت اختیار کر جائیں گے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس ایک غیرسرکاری تنظیم ہے جو قانون پر عمل پیرا ہونے کی روایت کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔