1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے خلاف بڑا آپریشن شروع

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ خفیہ اداروں کی اطلاعات کی روشنی میں چھاپے مارکر کالعدم تنظیموں کے کارکنوں سمیت سینکڑوں مشکوک افراد کوحراست میں لیا جا چکا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے ایک درجن سے زائد اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کر کے 26 اشتہاری ملزموں کو گرفتار کی۔ جبکہ 200 سے زائد مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے رابطہ کرنے پر لاہور پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) امین وینس نے اس آپریشن کے بارے میں تفصیلات دینے سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے حکام ہی کچھ بتانے کے مجاز ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے شعبے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن اضلاع میں اب تک کارروائیاں کی گئی ہیں ان میں لاہور، جھنگ، گوجرانوالا، سرگودھا، چنیوٹ، راولپنڈی، بھکر، ڈی جی خان، اٹک اور ملتان شامل ہیں۔ ان کے بقول پنجاب بھر میں مساجد اور مدرسوں کی تفصیلات کے حصول کے لیے ایک تفصیلی سروے کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے لاہور میں صحافیوں کو بتایا کہ ان گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ بے گناہ ثابت ہونے والے افراد کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ بعض علاقوں میں نجی ہوسٹلوں میں قیام پذیر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جبکہ مشکوک علاقوں میں کرایہ داروں کے کوائف بھی چیک کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والے ملک کے ممتاز عسکری تجزیہ نگار برگیڈیئر (ر) فاروق حمید خان نے بتایا کہ پنجاب میں صوبائی ایپیکس کمیٹی کی ہدایت پر سول اور ملٹری لیڈر شپ کی زیر نگرانی یہ آپریشن چل رہا ہے۔ ان کے بقول اس آپریشن کا بنیادی مقصد صوبے سے فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ ان کے بقول، ’’دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے والوں اور اشتعال انگیز تقریریں کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ سول اور ملٹری کے خفیہ اداروں کی انٹیلیجنس شیئرنگ کامیاب نتائج دے رہی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کی حمایت میں سیاسی حلقوں کی طرف سے ہچکچاہٹ مستقبل میں اس آپریشن کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

ادھر امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حقانی گروپ اور لشکر طیبہ کے خلاف بھی ایسی ہی بھرپور کارروائیاں کرے جیسی کہ وہ تحریک طالبان کے خلاف کر رہا ہے۔ دوسری طرف سکیورٹی حکام نے خفیہ اطلاعات کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا ایک گروہ اگلے چند دنوں میں اسلام آباد یا پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس الرٹ کے بعد پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں اہم تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حقانی گروپ اور لشکر طیبہ کے خلاف بھی ایسی ہی بھرپور کارروائیاں کرے جیسی کہ وہ تحریک طالبان کے خلاف کر رہا ہے

امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حقانی گروپ اور لشکر طیبہ کے خلاف بھی ایسی ہی بھرپور کارروائیاں کرے جیسی کہ وہ تحریک طالبان کے خلاف کر رہا ہے

سلامتی کے امور پر تحقیق کرنے والی پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب میں اس آپریشن کا آغاز ایک مستحسن اقدام تو ہے لیکن یہ بات ہم سب کو سمجھنا ہو گی کہ پاکستان جیسے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض انتظامی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ ان کے نزدیک مذہبی تصورات کے زیر اثر پروان چڑھنے والے انتہا پسندانہ انسانی رویوں کو بدلنے کے لیے معاشرے کا موجودہ بیانیہ تبدیل کرنا ہو گا: ’’اس کے لیے لوگوں میں آگاہی پھیلانے، مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے اور لوگوں کے باہمی رابطوں کو وسعت دینے کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں بھی دوسرے صوبوں کی طرح انسداد دہشت گردی کا محکمہ قائم کیا گیا ہے اب تک انسداد دہشت گردی فورس کے تین بیچز کو جدید ترین تربیت دے کر فیلڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آپریشن میں تیزی کی ایک وجہ اقتصادی راہداری کے منصوبے والے راستوں کو کم سے کم وقت میں پر امن بنانا ہے۔

تنویر شہزاد، لاہور