1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کے خطرے پر امریکہ اور برطانیہ متحد

امریکہ اور برطانیہ نے صومالیہ اور یمن میں القاعدہ کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس حوالے سے لندن اور واشنگٹن حکومتیں یمن میں پولیس کے ایک خصوصی یونٹ کے لئے مالی وسائل فراہم کریں گی۔

default

امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن

یہ یونٹ شدت پسندی پر قابو پانے کے لئے کارروائیاں کرے گا۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے یہ فیصلہ کرسمس کے روز ایمسٹرڈیم سے

Delta in Detroit - Terror - Northwest

نائجیریا کے شہری نے مبینہ طور پر اس طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی

ڈیٹرائٹ جانے والے امریکی طیارے پر دہشت گردانہ حملے کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آیا ہے۔

لندن سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ناکام ڈیٹرائٹ حملے کے تناظر میں ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وائٹ ہاؤس یمن اور صومالیہ سے جنم لینے والے شدت پسندی کے خطرات کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ یمن میں خصوصی پولیس فورس کے لئے مشترکہ مالی وسائل کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اوباما اور براؤن صومالیہ میں امن فوجیوں کی تعداد میں اضافہ چاہتے ہیں تاکہ وہ خطے میں پرتشدد کارروائیوں کے خلاف کام کرسکیں۔ دونوں ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس کی حمایت کریں گے۔

باراک اوباما اور گورڈن براؤن اس مسئلے پر متعدد مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو کر چکے ہیں۔ دونوں رہنماوٴں نے یمن کے کوسٹ گارڈز کے لئے مزید معاونت پر بھی اتفاق کیا ہے۔

براؤن جمعہ کو ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ یمن میں ’انتہاپسندی‘ کے خاتمے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جانی چاہیے۔ براوٴن نے یہ کانفرنس اٹھائیس جنوری کو لندن میں منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ اسی روز وہاں افغانستان کے مسئلے پر بھی ایک یورپی اجلاس ہو رہا ہے۔برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھاکہ یمن میں ’القاعدہ کے بڑھتے ہوئے اثر کا عالمی سطح پر مقابلہ کیا جانا چاہیے۔‘ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق یورپی یونین اور امریکہ نے ان کی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

واضح رہے کہ کرسمس کے روز ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ جانے والے امریکی طیارے پر ناکام حملے کی کوشش کی ذمہ داری یمن ہی میں القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ نے قبول کی تھی۔ صدر باراک اوباما نے ہفتہ کو ایک بیان میں پہلی مرتبہ حملے کی اس کوشش میں القاعدہ کو ملوث قرار دیا۔

اس میں ملوث نائجیریا کا ایک شہری عمر فاروق امریکہ میں زیرحراست ہے۔ امریکہ نے گزشتہ ہفتے یمن کے لئے عسکری اور اقتصادی امداد بڑھانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

Soldaten der Al-Shabab-Miliz vor Mogadischu

امریکہ اور برطانیہ کے درمیان صومالیہ میں شدت پسندی کے خاتمے کے لئے کوششوں پربھی اتفاق

امریکی صدر ڈیٹرائٹ حملے کی کوشش کو ملکی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی بھی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرسمس کے روز نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کے طیارے پر حملے کی ناکام کوشش کو سرے سے روکا جا سکتا تھا، لیکن شدت پسندوں سے متعلق خفیہ معلومات جمع کرنے اور ان کے تبادلے کے مرحلے میں غلطیوں کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

رپورٹ: ندیم گل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM