1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

دہشت گردی کی وارداتوں میں موبائل فون کا استعمال

ہفتے کو پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں موبائل کمپنیوں کو پہلے سے چالوغیر قانونی ’سِموں‘ کو مارکیٹ سے اٹھانے اور صارفین کا مکمل ڈیٹا یکم جنوری دو ہزار نو تک پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

default

موبائل فون ٹیکنالوجی نے دہشت گردوں کا کام سہل بنا دیا ہے

پاکستان میں دہشت گردی اور دیگر منظّم جرائم خصوصاً اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں موبائل فون کا استعمال تقریباً عام سی بات ہے۔ سابق پاکستانی صدر پرویز مشرّف پر حملوں سے لے کر حالیہ عرصے میں صوبہ ِ سرحد میں غیر ملکیوں کے اغوا تک کی کارروائیوں میں موبائل فون نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

اس نوعیت کی کارراہائیوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر موبائل فون میں استعمال کی جانے والی ’سم‘ کے زریعے ہی مجرموں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طریقے سے کچھ دہشت گردوں اور اغوا برائے تاوان میں ملوّث افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ تاہم زیادہ تر یہی دیکھا گیا ہے کہ اس طریقے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں تک پہنچنے میں زیادہ تر کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی جس کی وجہ اکثر ہارداتوں میں استعمال ہونے والے موبائل فونوں کی ’سِموں‘ کا غیر اندراج شدہ یا جعلی شناختی کارڈ کے زریعے حصول ہے۔

پاکستان میں سن دوہزار چار سے حکومت کی جانب سے تین موبائل کمپنیوں کو لائسنس کے اجراء کے بعد سے ملک میں مواصلاتی ٹیکنالوجی کا جو انقلاب برپا ہوا اس میں موبائل کمپنیاں اور حکومتی ادارے دونوں پہلے سے طے شدہ قواعد و ضوابط کی پابندی درست طور پر نہیں کرسکے۔

سرکارای اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک مقامی کمپنی سمیت چھ غیر ملکی موبائل فون کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن کے صارفین کی تعداد آٹھ کروڑ سے زائد ہے۔ حکومت کی طرف سے سختی برتے جانے کے بعد اب تک اڑھائی کروڑ غیر قانونی موبائل ’سِموں‘ کی شناخت کی جا چکی ہے۔ موبائل کمپنیوں کے مطابق ان غیر قانونی ’سِموں‘ میں سے ایک کروڑ بیس لاکھ کی سروس بند کی جا چکی ہے جب کہ باقی کے حوالے سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اسی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں موبائل کمپنیوں کو پہلے سے چالوغیر قانونی ’سِموں‘ کو مارکیٹ سے اٹھانے اور صارفین کا مکمل ڈیٹا یکم جنوریدو ہزار نو تک پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی۔

اس حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا ہے کہ ان موبائل فون کمپنیوں سے سختی برتی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں دوسرے ملکوں کے قوانین کی تو پاسداری کرتی ہیں مگر پاکستان کے قوانین کی انہوں نے دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے لائسنس بھی منسوخ کرنا پڑے تو حکومت اس سے بھی گریز نہیں کرے گی۔