دہشت گردی کی منصوبہ بندی، بیلجیم میں 12 مشتبہ افراد گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 18.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کی منصوبہ بندی، بیلجیم میں 12 مشتبہ افراد گرفتار

بیلجیم کی پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپے مار کر 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان مشتبہ افراد پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

بیلجیم کے وفاقی دفترِ استغاثہ کی جانب سے ہفتہ 18 جون کے روز ان گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پولیس نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ملک میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ بیلجیم کے وزیر اعظم آج ملک میں سلامتی کی صورت حال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس میں بھی شریک ہیں۔

بیلجیم کے ہمسایہ ملک فرانس میں یورپی فٹ بال چیمپئن شپ جاری ہے، جب کہ اسی تناظر میں فرانس اور یورپ بھر میں سکیورٹی انتہائی الرٹ ہے۔ رواں برس مارچ میں بیلجیم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر ہونے والے حملوں میں 32 افراد کی ہلاکت کے بعد بیلجیم میں بھی سکیورٹی انتہائی سخت کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق فرانس اور بیلجیم سمیت یورپ بھر میں دہشت گردانہ حملوں کے خطرات کے تناظر میں یورپی ممالک اپنے اشتراکِ عمل میں واضح اضافہ کر چکے ہیں۔

Belgien Polizeieinsatz in Brüssel-Molenbeek

برسلز حملوں کے بعد بیلجیم میں بھی سکیورٹی انتہائی سخت ہے

ہفتے کے روز بیلجیم کے وفاقی دفتر استغاثہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’دہشت گردی سے متعلق مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالے سے تفتیش کے تناظر میں 40 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے 12 کو باقاعدہ طور پر حراست میں لے لیا گیا۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’تفتیشی جج ان کی حراست میں ممکنہ اضافے سے متعلق فیصلہ آج کر دیں گے۔ یہ چھاپے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق جاری چھان بین کا حصہ تھے اور فوری اقدامات کے متقاضی تھے۔ یہ تفتیش ابھی جاری ہے۔‘‘

دفتر استغاثہ نے تاہم بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے کسی کے گھر سے کوئی ہتھیار یا گولہ باردو برآمد نہیں ہوئے۔

دوسری جانب وزیر اعظم چارلس میشل کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت کی قائم کردہ سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کے علاوہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ بھی شریک ہوں گے، جس کے بعد ممکنہ طور پر نیوزکانفرنس بھی کی جائے گی۔‘‘

گزشتہ برس نومبر میں پیرس حملوں اور پھر مارچ میں برسلز میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان دونوں واقعات میں ملوث حملہ آوروں کے آپس میں تعلق تھا۔ ان حملوں میں ملوث کچھ دہشت گردوں کا تعلق بیلجیم سے بھی تھا۔