1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، پاکستانی صدر

پاکستانی صدر ممنون حسین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملکی سکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک لڑائی جا ری رہے گی۔

23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ فوجی پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے پاکستانی صدر ممنون حسین نے کہا کہ وہ ملکی فورسز کی صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

آج کی تقریبات کی مناسبت سے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد اور بالخصوص پریڈ ایوینیو پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد میں موبائل فون سروسز بھی معطل کر دی گئیں تھیں۔

اس ریلی میں شریک ہزاروں افراد کی موجودگی میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ ملک کے شمال مغربی حصوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن اپنے ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہو چکا ہے۔

Pakistan Islamabad Präsident Mamnoon Hussain in Kutsche

ممنون حسین نے پریڈ میں شرکت کی اور خطاب کیا

اس ریلی میں پاکستان نے جوہری حملوں کی صلاحیت کےحامل میزائلوں، ٹینکوں، ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیاروں کی نمائش بھی کی۔ پاکستان سن 1998ء سے اعلانیہ جوہری طاقت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان وقفے وقفے سے جوہری ہتھیاروں کو ہدف تک پہنچانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کے تجربات بھی کرتا رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں، تاہم جون 2014ء میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں ’آپریشن ضربِ عضب‘ کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

دسمبر 2014 ء میں پشاور میں ایک اسکول پر دہشت گردانہ حملے میں ڈیڑھ سو کے قریب طلبہ اور اساتذہ کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی تھی، جب کہ کل جماعتی کانفرنس کے ذریعے تمام جماعتوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ملک بھر میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ملک بھر میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔