1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردوں کی کمر جلد توڑیں گے، شہباز شریف

پاکستان میں داتا دربار کے خودکش حملے کے ردعمل میں شریف برادران اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے درمیان تکرار پھر شروع ہو گئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک جلد توڑ دیا جائے گا۔

default

شہباز شریف اور نواز شریف کی داتا دربار پر حاضری، فائل فوٹو

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہفتہ کو سرگودھا کا دورہ کیا، جہاں صحافیوں سےداتا دربار کے حملے کے بارے میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

انہوں نے کہا کہ وہ وزیرداخلہ رحمان ملک کے بیانات کی مذمت کرتے ہیں، جو انہوں نے پنجابی طالبان کے بارے میں دیے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے صوبوں کے درمیان دُوریاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورتِ حال میں پوائنٹ سکور کرنے کی کوششوں سے فائدہ دہشت گردوں کو ہی پہنچے گا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ پنجاب کو خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے معلومات کی عدم فراہمی کے الزامات ثابت ہوئے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے یہ بیان پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے اس الزام کے ردعمل میں دیا، جس میں انہوں نے پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی وجہ خفیہ اداروں کی جانب سے صوبے کو اہم معلومات نہ ملنے کو قرار دیا تھا۔

رحمان ملک نے ہفتہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کے موقع پر کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں اور شہباز شریف کو اصل مسئلے پر توجہ دینی چاہئے۔ رحمان ملک نے کہا کہ پنجاب میں پولیس فورس کی تعداد بڑھا دی جانی چاہئے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد مل سکے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہفتہ کو ہی لاہور میں داتا دربار کا دورہ کیا، جہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کو اس مشکل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کو شکست دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کمزور اور بے بس ہو گئے اوراسی لئے اب بڑے شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری سے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک تفصیلی معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں، پنجاب میں فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے گنگارام ہسپتال میں داتا دربار حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت بھی کی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو پاکستان کے شہرلاہور میں دوہرے خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM