1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردوں کی مالی مدد، سنگاپور میں چھ بنگلہ دیشیوں کو سزا

سنگاپور میں چھ بنگلہ دیشی شہریوں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے جرم میں مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ چھ ملزم ان آٹھ غیر ملکی کارکنوں میں شامل تھے جنہیں اس سال مارچ اور اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔

Islamischer Staat Logo Flagge Fahne

ملزمان نے اعتراف کر لیا تھا کہ ان کا تعلق ’بنگلہ دیش میں اسلامک اسٹیٹ‘ سے ہے

سنگاپور سے منگل بارہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس سال مارچ کے اواخر اور اپریل کے شروع میں جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں جن آٹھ غیر ملکی کارکنوں کو داخلی سلامتی کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، یہ سزا انہی آٹھ میں سے چھ تارکین وطن کو سنائی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یہ چھ غیر ملکی کارکن وہ اولین ملزمان تھے، جن پر دہشت گردی کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کے خلاف سنگاپور کے قومی قانون کے تحت پہلی مرتبہ فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق ان مجرموں کے سرغنہ کا نام میزان الرحمان ہے اور اس کی عمر 31 برس ہے، جسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ان مجرموں کو، جو سب کے سب بنگلہ دیشی شہری ہیں، دو سے لے کر پانچ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

باقی پانچ مجرموں کے نام رُوبل میاں، محمد جبار قیصر، حاجی نورالاسلام سوداگر، سہیل حوالدار اور اسماعیل حوالدار بتائے گئے ہیں۔ ان تمام مجرمان کی عمریں 26 اور 31 برس کے درمیان ہیں۔ ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ جن چھ ملزموں کو منگل بارہ جولائی کے روز ایک مقامی عدالت نے سزائیں سنائیں، ان میں سے دو نے مارچ میں اپنی گرفتاری کے فوراﹰ بعد ہی اقبال جرم کر لیا تھا۔

گرفتار کیے گئے باقی دو ملزمان، زمان دولت اور مامون لیاقت علی اپنے خلاف عائد کردہ الزامات سے انکاری ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی ابھی تک شروع نہیں ہو سکی۔

سنگاپور کی وزارت داخلہ کے مطابق یہ ملزمان خود کو ’بنگلہ دیش میں اسلامک اسٹیٹ‘ کے ارکان قرار دیتے تھے اور ان کا مقصد بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد اس جنوبی ایشیائی ملک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی ’خلافت‘ قائم کرنا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ان افراد کے خلاف یہ الزامات بھی ثابت ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنے اسی مقصد کے حصول اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے رقوم بھی مہیا کی تھیں۔

DW.COM