1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردوں کی رہائی، سرکاری وکیلوں کی پسپائی

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں انصاف کے ایوانوں میں ناکامیوں سے دو چار نظر آ رہی ہیں۔ دہشت گردی کے مقدمات کی نامناسب پیروی کی وجہ سے شدت پسندی میں ملوث ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں دلوانا مشکل ہوگیا ہے۔

default

اس سلسلے میں ایک بڑا واقعہ 13 مئی کو سامنے آیا، جب راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی ایک بس اور پاک فوج کے لفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ پر خود کش حملوں کے سلسلسےمیں گرفتار ہونے والے نو ملزمان کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کرنے کا حکم دے دیا ۔

اس سے چند روز پہلے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے میریٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان کو ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجا ب میں دہشت گردی کے سینکڑوں مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2009 میں دہشت گردی کے جن 629 مقدمات کے فیصلے ہوئے، ان میں سے 471 مقدمات میں مناسب اور کافی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کو کوئی سزائیں نہ سنائی جا سکیں۔

Bombenanschlag in Islamabad Pakistan

اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل کے باہر ہونےوالے بم دھماکے کے چار ملزمان بھی ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دئے گئے

آئی ایس آئی کی بس اور پاکستانی فوج کے سرجن جنرل پر خود کش حملوں کے ملزموں کے بری ہونے کے عدالتی فیصلے کے بعد ملکی فوج اور پنجاب حکومت کے درمیان ایک تناو کی سی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے اور صوبے کے پرو سیکیوشن کے محکمے کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں جمعے کے روز پنجاب حکومت نے اس سینئیر سرکاری وکیل کو اس کے عہدے سے معطل کر دیا جس نے آئی ایس آئی کی بس اور لفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ کی گاڑی پر خود کش حملوں کے مقدمات کی ریاست کی طرف سے پیروی کی تھی۔

پنجاب حکومت نے اس موقع پر ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو ان وجوہات کا جائزہ لے گی جن کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو عدالتوں سے سزا نہیں دلوائی جا سکی۔

پروسیکیوٹر جنرل پنجاب سید زاہد حسین بخاری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس بات کی چھان بین کی جائے گی کہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے ، شواہد جمع کرنے اور عدالتی پیروی کرنے میں کہیں تساہل تو نہیں برتا گیا اور اگر ایسا ہوا ہے تو اس کے ذمہ داروں اور ان کے لئے سزاوں کا تعین بھی کیا جائے گا۔

سید زاہد بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ جائزہ بھی لیا جائے گا کہ پاک فوج نے اپنے ایک اعلیٰ افسر کے قاتلوں کو سزا دلوانے کےلئے کیا اقدامات کئے ۔ کیا ان کے محکمے کے افسران نے مقدمے کی پیروی کی اور کیا پاک فوج کا کوئی نمائندہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں آتا رہا یا نہیں؟ ڈسٹرکٹ پپبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی کے کندھوں پر ان سوالوں کی کھوج کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

Pakistan Anschlag Lahore 12.3.2010 Flash-Galerie

پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں بارہ مارچ کو ہونے والے ایک بم حملے کے بعد کی تصویر

زاہد بخاری نے بتایا کہ ان تحقیقات کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات کے سلسلے میں کی جانے والی عدالتی چارہ جوئی کے حوالے سےسرکاری اہلکاروں کی تیاری کو بہتر بنانے اور دہشت گردوں کے مقدمات کی پیروی کرنے کے حوالے سے نئی اور موثر پالیسی بنانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون خالد رانجھا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ عدالتیں بعض اوقات خواہش کے باوجود بھی ایسے دہشت گردوں کو سزائیں نہیں دے سکتیں جن کے خلاف مناسب شہادتیں یا ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کئے جاتے۔

انہوں نے پاکستان کے قانون شہادت میں ترمیم، سائنسی بنیادوں پر ثبوت جمع کرنے اور پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ خالد رانجھا کے مطابق پاکستان میں دباو کی وجہ سے عام طور پر پولیس ٹھوس شواہد اکٹھا کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات زیادہ کرتی ہے۔

’’جلد بازی میں گرفتاریوں، اعلیٰ حکام کو متاثر کرنے اور سب کچھ اچھا ہونے کی رپورٹ دینے کے بجائے اگر پولیس ٹھوس شواہد جمع کرنے کے لئے محنت کرے تو دہشت گردوں کو عدالتوں کے ذرہعے سزائیں دلوانا بھی ممکن ہو سکے گا۔‘‘

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM