1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت گردانہ حملوں سے پیرس میں سیاحت کی صنعت کو بھاری نقصان

مسلم عسکریت پسندوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں، مقامی ہڑتالوں اور سیلاب کے باعث رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی کم تعداد نے فرانسیسی دارالحکومت پیرس کا رُخ کیا۔

Bildergalerie Metropolen der Welt

فرانس میں پانچ لاکھ افراد کا روزگار سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے

فرانسیسی حکام کے مطابق پیرس کی سیاحتی صنعت کو 750 ملین یورو کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پیرس میں سیاحتی بورڈ کے سربراہ فریڈرک والیٹُو نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس کرنا ہے کہ پیرس کی سیاحتی صنعت انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ والیٹُو کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک امدادی منصوبے کا قیام عمل میں لایا جائے۔

پیرس سیاحتی بورڈ کے سربراہ نے ملکی وزیر خارجہ کی توجہ اِس امر کی جانب دلاتے ہوئے کہا کہ ملازمتوں کو بچانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور وہ مقامی ٹورزم انڈسٹری کے اراکین سے ملاقات کریں۔ واضح رہے کہ اس شعبے میں پانچ لاکھ افراد کا روزگار سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے۔

Trauer um Opfer in Nizza

رواں برس چودہ جولائی کو ایک حملہ آور نے نیس کے شہر میں ایک مجمعے پر ٹرک چڑھا دیا تھا

پیرس میں گزشتہ برس اسلامک اسٹیٹ کے مسلح افراد کی کارروائیوں میں ہونے والی 130 ہلاکتوں نے پیرس شہر کی سیاحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب رواں برس چودہ جولائی کو ایک حملہ آور نے نیس کے شہر میں ایک مجمعے پر ٹرک چڑھا دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 84 افراد ہلاک اور 207 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے دو ہفتے بعد نارمنڈی کے قصبے میں ایک گرجا گھر کے بزرگ پادری کو دو مسلح جہادیوں نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دہٹت گردانہ واقعات کے ساتھ ساتھ متنازعہ لیبر اصلاحات پر ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ہڑتالوں میں تسلسل اور رواں برس جون میں آنے والے سیلاب نے بھی فرانسیسی سیاحت کو شدید متاثر کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیاح ہر سال فرانس کا رخ کرتے ہیں۔گزشتہ برس سولہ ملین سیاح پیرس آئے تھے۔

DW.COM