1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشت سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا: زپی لیونی

بدھ کے روز غزہ پٹی سےجنوبی اسرائیل پر80 کے قریب راکٹ داغے گئے جس کے بعد سے اسرائیل نے حماس تحریک کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔کئی اسرائیلی وزراء نے غزہ پٹی میں فوجی کارروائی کی بھی دھمکیاں دی ہیں۔

default

اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی یہ کہہ چکی ہیں کہ وزیر اعظم بننے کی صورت میں وہ غزہ پر حماس کا کنٹرول ختم کردیں گی

اسرائیل اور بارہ عسکریت پسند فلسطینی تنظیموں کے مابین چھ ماہ کی میعاد کا فائر بندی معاہدہ 19 دسمبر کو ختم ہو گیا تاہم اس معاہدے کے ختم ہونے سے قبل ہی فریقین کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو چکا تھا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی سمیت کئی دیگر وزراء غزہ پر کنٹرول کرنے والی حماس تحریک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

اسرائیلی اخبار Ha'aretz کے مطابق حماس اور دیگر تنظیموں کے خلاف یہ مجوزہ فوجی آپریشن محدود پیمانے کا ہو گاجس میں اسرائیلی فضائیہ اور زمینی دستے حصہ لیں گے۔ لیکن اس خبر کی ابھی تک سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

Israel Libanon Bodentruppen an der Grenze

اسرائیلی کمانڈوز کو زبردست صلاحیت اورفوجی تربیت کے لئے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے

موجودہ صورتحال پرغور کرنے کے لئے اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر اپنے دفاعی ماہرین اور سلامتی کابینہ کے اراکین کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی نے کہا کہ حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کی جائے گی کیونکہ صورتحال اب اسرائیل کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔

’’غزہ پٹی پر حماس کا کنٹرول ہے اور اس کا خمیازہ فلسطینی اوراسرائیلی بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ دہشت کو ہتھیار بنا کر اسرائیل سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

Gazastreifen Weihnachten 2008 PANO

اسرائیل کے حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینی عسکریت پسند محمد معروف کے رشتہ دار ماتم کرتے ہوئے

اسرائیلی وزیرخارجہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ وزیراعظم بننے کی صورت میں وہ فوجی، اقتصادی اورسفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئےغزہ پٹی میں حماس کا کنٹرول ختم کروا دیں گی۔

حماس کے ترجمان المصری نے اس بیان کے ردّ عمل میں کہا کہ طاقت کے زور پر اسرائیل حماس کے وجود کو ختم نہیں کر سکتا ہے۔

’’ اگر اسرائیل حماس کی قیادت اور اُس کے اثرو رسوخ کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اسے اِس میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ اگرحماس کے100 یا 200 رہنما بھی ہلاک کر دیئے جاتے ہیں توبھی یہ تنظیم موجود رہے گی۔‘‘

Palästina Bewaffnete Anhänger der Fatah-Bewegung

حماس تحریک اور اس کے عسکریت پسندوں کو غزہ میں زبردست حمایت حاصل ہے

دوسری جانب اسرائیلی وزارت دفاع نے غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے دوبارہ کھولے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش اورادویات سے بھرے 80 ٹرکوں کو غزہ میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

وزیر دفاع ایہود براک کے مطابق سرحد کی ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ عالمی برادری کی متعدد اپیلوں کے بعد کیا گیا ہے۔

’’میں صرف یہی کہوں گا کہ جو بھی اسرائیلی عوام یا آرمی کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اُسے اِس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘

حماس اور اسرائیل کے مابین پہلے سے موجود کشیدگی میں شدت اُس وقت آئی جب گذشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی میں متعدد فضائی حملے کئے گئے۔ ان حملوں میں حماس کے چھ عسکریت پسند مارے گئے ۔ تب سے حماس کے عسکریت پسند اسرائیلی علاقوں پرراکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM