دہشتگردی کے خلاف جنگ: جاپان کی طرف سے پاکستان کی تعریف | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ: جاپان کی طرف سے پاکستان کی تعریف

جاپان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کو سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں ٹوکیو کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

default

جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کے ساتھ

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات چار جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق جاپان کی طرف سے یہ یقین دہانی وزیر خارجہ تارو کونو نے اپنے ایک دو روزہ دورہ پاکستان کے دوران کرائی۔

Mar-a-Lago Donald Trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا نے کوئی ایکشن لیا تو ردعمل ہو گا، پاکستانی موقف

 ’ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

ٹرمپ ناسمجھ اور ناشکرے ہیں، عمران خان

اس دوران راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایک ملاقات بھی کی۔ فوج کی طرف سے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں جاپانی وزیر کو پاکستان کی طرف سے علاقائی امن اور انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق تارو کونو نے خطے میں امن و سلامتی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے یقین دہانی بھی کرائی کہ ٹوکیو اسلام آباد کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں مزید تعاون کی خواہش رکھتا ہے، خاص طور پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے۔

تارو کونو نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ہم منصب خواجہ آصف اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

USA UN-Sicherheitsrat in New York - US-Botschafterin Nikki Haley

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی

جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ ابھی تین روز پہلے ہی امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں، جو نئے سال میں ان کی پہلی ٹویٹ تھی، پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ امریکا نے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو اربوں ڈالر کی جو امداد دی ہے، اس کے بدلے میں واشنگٹن کو صرف ’جھوٹ اور دھوکا‘ ہی ملا ہے۔

’پاکستان ’دہرا کھیل‘ کھیل رہا ہے، امریکا کا الزام

’میرا نام خان ہے اور میں دہشت گرد نہیں‘

امریکا پاکستان کے خلاف کون سے اقدامات اٹھا سکتا ہے؟

اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے بھی دو جنوری کو پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ’ڈبل گیم‘ کھیل رہا ہے۔ نکی ہیلی کے بقول پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑ بھی رہا ہے اور اس نے دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے بھی مہیا کر رکھے ہیں۔

پاکستان ان امریکی الزامات کی سختی سے تردید کر چکا ہے اور ساتھ ہی ملکی فوج کی طرف سے اس کے ترجمان کے علاوہ حکومت کی طرف سے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع تک نے یہ موقع اختیار کیا تھا کہ پاکستان امریکا کا اتحادی تو ہے لیکن ’قومی عزت اور وقار‘ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

DW.COM