1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’دھڑ سے نیچے مفلوج پاکستانی قیدی کو پھانسی نہ دی جائے‘

حقوقِ انسانی کے علمبردار حلقے پاکستان میں سزائے موت کے ایک ایسے قیدی کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو دھڑ سے نیچے مفلوج ہے۔ پاکستانی جیلوں میں آٹھ ہزار سے زیادہ قیدی ایسے ہیں، جنہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

Symbolbild Todesstrafe Strick Galgen Erhängen

پاکستان میں ایسے قیدیوں کی تعداد آٹھ ہزار سے بھی زیادہ ہے، جو کال کوٹھڑیوں میں پڑے موت کی سزا پر عملدرآمد کے منتظر ہیں

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ HRW کے پاکستان سے متعلقہ امور کے ماہر بریڈ ایڈمز نے نیوز ایجنسی کے این اے سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’بجائے سزائے موت کی پوری بے رحمی کا اداراک کرنے کے عدالتی منصف اس سوال پر بحث کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ وہیل چیئر میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو کس طریقے سے پھانسی دی جائے۔‘‘

سزائے موت کے دھڑ سے نیچے مفلوج اس قیدی کا نام عبدالباسط ہے اور اُسے 2009ء میں قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں جب یہ قیدی فیصل آباد جیل میں تھا، وہ گردن توڑ بخار کی ایک ایسی قسم میں مبتلا ہو گیا، جو تپِ دق سے جڑی ہوتی ہے اور جس میں انسان کا اعصابی نظام شدید طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں دھڑ سے نیچے اُس کا سارا جسم مفلوج ہو گیا۔

رواں مہینے کے اوائل میں عدالت نے عبدالباسط کی یہ درخواست رَد کر دی تھی کہ اُس کی معذوری کی وجہ سے اُس کی موت کی سزا پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔ تازہ ترین شیڈول کے مطابق عبدالباسط کو آئندہ منگل کے روز پھانسی دے دی جائے گی۔

ہیومن رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ایسے قیدیوں کی تعداد آٹھ ہزار سے بھی زیادہ ہے، جنہیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور جو کال کوٹھڑیوں میں پڑے اس سزا پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

Symbolbild Taliban-Angriff in Pakistan Todesstrafe für Schulmassaker

سزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کی وجہ: پاکستانی طالبان نے پشاور آرمی پبلک اسکول میں بڑی تعداد میں بچوں سمیت 148 انسانوں کو بے رحمی سے مار ڈالا تھا

پاکستان وزیر اعظم نواز شریف نے دسمبر 2014ء میں موت کی سزا پر عملدرآمد کے حوالے سے چلی آ رہی ایک عارضی پابندی ختم کر دی تھی۔ اُن کے اس اقدام کی وجہ پاکستانی طالبان کی وہ ہولناک کارروائی بنی تھی، جس میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 148 انسانوں کو موت کی نیند سُلا دیا گیا تھا۔ مرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس اسکول کے کم عمر طلبہ پر مشتمل تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تب سے لے کر اب تک پاکستان میں 236 قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔ پاکستانی قوانین کے مطابق اٹھائیس جرائم ایسے ہیں، جن کے لیے موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ایسے جرائم میں قتل، آبروریزی اور غداری کے ساتھ ساتھ توہینِ مذہب بھی شامل ہے۔