1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دھول اور مٹی سے اٹا ایمبولنس میں بیٹھا بچہ

شام کی اپوزیشن کے سرگرم کارکنوں نے ایک بچے کی انتہائی دردناک ویڈیو جاری کی ہے، جسے شام کے شہر حلب میں بمباری کے بعد ایک عمارت کے ملبے سے نکالا گیا۔

اومران داکنیش نامی یہ بچہ ایک ایمبولنس میں نارنجی رنگ کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ مٹی اور دھول سے اٹا ہوا ہے اور اس کی ایک آنکھ کے قریب سے خون بہتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تصویر شام کے اس شمالی شہر میں تنازعات اور جنگ کے باعث لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک عکاس کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اس تصویر کو دنیا بھرمیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

حلب کے ایک ڈاکٹر اسامہ ابو الایز کے مطابق اس پانچ سالہ بچے کو بدھ کی شام باغیوں کے زیر تسلط علاقہ قطیرجی میں بمباری کے بعد ’ایم ٹین‘ نامی ہسپتال میں لایا گیا تھا۔ عمران داکنیش کے سر پر زخم تھے اور اسے کچھ دیر میں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

حلب میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اس بچے کو ملبے کے نیچے سے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بچہ اپنے خون سے بھرے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہے، پھر ان ہاتھوں کو دیکھتا ہے اور ایمبولنس کی کرسی پر اپنے ہاتھوں کو صاف کر دیتا ہے۔

شام کی حزب اختلاف کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ قطیرجی میں فضائی بمباری میں پانچ بچوں سمیت آٹھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں نارنجی رنگ کی کرسی پر بیٹھے عمران کی تصویر ایلان کردی کی یاد دلاتی ہے۔ ایلان کردی کی لاش ترکی کے ایک ساحل سے ملی تھی جس نے دنیا بھر کی توجہ شام میں جاری خانہ جنگی اور مہاجرین کے بحران پر دلا دی تھی۔

DW.COM