1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دھماکوں کے بعد کریمیا تاریکی میں ڈوب گیا، ایمرجنسی نافذ

یوکرائن میں دھماکوں کے بعد جزیرہ نما کریمیا تاریکی میں ڈوب گیا، جس کے باعث روس اور یوکرائن کے مابین نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یوکرائن کے اس سابقہ علاقے کو گزشتہ برس ماسکو نے روس میں ضم کر لیا تھا۔

Karte der Krim Englisch (Stand: 2014-03-31)

ماسکو کی طرف سے کریمیا میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

روسی دارالحکومت سے اتوار بائیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ماسکو میں ملکی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ جزیرہ نما کریمیا کو بجلی کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے دو بہت بڑے بڑے ٹاورز کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اس خطے کے قریب دو ملین باشندوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

یہ ٹاورز یوکرائن کے ریاستی علاقے میں ہیں، جنہیں دھماکوں کے نتیجے میں بری طرح نقصان پہنچا۔ ان دھماکوں کے بعد کریمیا کو بجلی کی فراہمی اس لیے معطل ہو گئی کہ اس جزیرہ نما کو بجلی کی زیادہ تر ترسیل ابھی بھی یوکرائن سے ہی کی جاتی ہے۔ روسی وزارت توانائی کے مطابق اس پاور بریک ڈاؤن سے قریب دو ملین رہائشی متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد کریمیا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ یوکرائن کے موجودہ ریاستی علاقے میں واقع جن دو بڑے ٹرانسمشن ٹاورز کو دھماکوں سے نقصان پہنچا، وہ خیرسون کے مقام پر نصب ہیں اور انہیں جمعے کو روز نشانہ بنایا گیا۔

ان دھماکوں کے بعد یوکرائن میں سرگرم قوم پسندوں اور کریمیا میں آباد تاتار نسل کے افراد نے ہفتہ اکیس نومبر کے روز خیرسون میں بجلی کی ان تنصیبات کی مرمت کا کام زبردستی رکوانے کی کوشش کی لیکن وہاں پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد انہیں پسپا ہونا پڑا۔

دوسری طرف روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس نے یوکرائنی علاقے خیرسون میں ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کل ہفتے کے روز ان پاور ٹرانسمشن ٹاورز کی مرمت مکمل کر لی گئی تھی لیکن بعد میں ان ٹاورز کو نئے دھماکوں کے ساتھ دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔

Russland Ukraine Krim - Stromauswall Symbolbild

کریمیا کے تاریکی میں ڈوب جانے سے قریب دو ملین شہری متاثر ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ماسکو سے لکھا ہے کہ روسی حکومت نے اپنے موقف میں یہ واضح نہیں کیا کہ کریمیا کو بجلی کی فراہمی کیوں منقطع ہو گئی تاہم روسی میڈیا رپورٹوں میں ان واقعات کا ذمے دار ان یوکرائنی قوم پسندوں کے ٹھہرایا گیا ہے، جنہوں نے کریمیا کے شمال میں ان تنصیبات پر حملے کیے۔

روئٹرز کے مطابق اگر یہ حملے واقعی کریمیا کی روس میں متنازعہ شمولیت کی مخالفت کرنے والے یوکرائنی قوم پسندوں نے کیے ہیں تو یہ پیش رفت مشرقی یوکرائن کے مسلح تنازعے کے پس منظر میں ماسکو اور کییف حکومتوں کے مابین پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے گی۔

روسی حکام کے مطابق وہ ہنگامی بنیادوں پر کریمیا میں انتہائی حساس مقامات پر موبائل گیس جنریٹروں کے ذریعے بجلی کی ایمرجنسی سپلائی یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

DW.COM