1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دھماکوں کے بعد کراچی میں سرچ آپریشن شروع

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں جمعہ کو دو بم حملوں کے نتیجے میں پچیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس وقت سرچ آپریشن جاری ہے اور پورے شہر میں پرتناوٴ کیفیت ہے۔

default

کراچی بم حملوں کے متاثرین

شہیدان کربلا کے چہلم کے موقع پرکراچی کی شاہراہ فیصل پر اعزاداروں سے بھری ایک بس پر ہونے والے بم حملے کے بعد جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر دوسرا بم دھماکہ ہوا۔ ان دونوں واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 25 ہوچکی ہے جبکہ 100افراد زخمی ہیں۔

Pakistan Anschlag in Karaschi

کراچی کے جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر دوسرا بم دھماکہ ہوا

عینی شاہدین کے مطابق پہلا بم دھماکہ اس وقت ہوا جب شیعہ مسلمانوں سے بھری ایک بس شاہراہ فیصل سے گزرتی ہوئی نمائش کی طرف رواں تھی کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے اپنی بائیکس کو بس کے نیچے سلپ کرتے ہوئے ایک ٹیلی وژن اسکرین پھینکی، اطلاعات کے مطابق اس اسکرین میں بم نصب تھا۔ تاہم پولیس اور دیگر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ خود کُش بم حملہ تھا۔

اسی قسم کا دوسرا بم دھماکہ جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے ہوا۔ تاہم پولیس ان دونوں ہی حملوں کو خود کُش بم حملہ قرار دے رہی ہے۔

Pakistan Anschlag in Karaschi Krankenhaus

اطلاعات کے مطابق اس خاتون نے بم دھماکے میں اپنا بیٹا کھویا

دریں اثناء پولیس نے جناح ہسپتال کے پارکنگ ایریا سے ایک ٹیلی وژن سیٹ قبضے میں لے لیا اور اس میں نصب بم کو ناکارہ بنادیا ہے۔ شیعہ اقلیتی گروپوں کے اتحاد ’جعفریہ الائنس‘ سمیت سنی علماء اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوٴں نے ان پرتشدد واقعات کی کڑی مذمت کی ہے۔

ایم کیو ایم کے طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا:’’ہمارا یہ موقف درست ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں Talibanisationہے اور دہشت گرد عناصر اپنا دائرہ کار اس کثیرالسانی شہر میں بڑھاتے جا رہے ہیں۔‘‘

جمعہ کے بم حملوں میں زخمیوں کو کراچی کے لیاقت نیشنل، آغا خان اور عباسی شہید ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ،اکٹر تمام پرائیوٹ ہسپتالوں میں زخمیوں کا اعلاج کریں گے اور یہ کہ اس کے اخراجات حکومت ادا کرے گی۔ ادھر رینجرز کے سخت پہرے میں اعزاداروں کے جلوس کو حسینیہ ایرانیہ پہنچا دیا گیا ہے۔

ادھر پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک دو روز سے کراچی میں موجود ہیں۔ ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ چہلم کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM

Audios and videos on the topic