1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دھماکوں نے انڈونیشی دارالحکومت کو ہلا کر رکھ دیا

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مختلف علاقوں میں آج کم از کم چھ بم دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ان میں سے تین خود کش حملے تھے۔

انڈونیشی پولیس نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار مشتبہ عسکریت پسند شامل ہیں اور ان میں سے کم از کم دو خود کش بمبار تھے۔ اس کے علاوہ دو عام شہری بھی ان واقعات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ بیان کے مطابق دو حملہ آور پولیس کے ساتھ ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔ اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے دو حملہ ‍ آور غیر ملکی ہیں۔ ان واقعات میں ایک غیر ملکی جبکہ چار انڈونیشی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

انڈونیشی پولیس کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے آج جکارتہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جکارتہ پولیس ترجمان آنٹون چارلیان نے بتایا ’’ہمیں ابھی حال ہی میں اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے انڈونیشیا کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج کے حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے‘‘۔

پولیس نے بتایا کہ ان میں سے کم از کم خود کش حملہ تھا۔ انڈونیشیا کے میٹرو ٹیلی وژن کے مطابق آج جمعرات کو ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں کم از کم چودہ حملہ آور ملوث تھے۔ انڈونیشی صدر جوکو ودودو نے جکارتہ واقعات کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق ’’انہوں نےاسٹارز بکس کفیے میں تین افراد کی لاشیں دیکھیں ہیں۔ اس دوران فائرنگ تو رک گئی لیکن عمارت کی چھت پر کوئی موجود تھا اور پولیس اپنی بندوقین اس کی جانب تانے ہوئے تھی‘‘۔

انڈونیشیا کو گزشتہ کئی ہفتوں سے دہشت گردانہ حملوں کے خطرے کا سامنا تھا۔ اسی وجہ سے پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے نے مسلم انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن بھی شروع کر رکھا تھا۔ اس دوران دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تعلق کے شبے میں کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ شہر کے مرکز میں قائم سارینا شاپنگ سینٹر کے باہر ہونے والے دھماکے میں وہاں پر موجود پولیس چوکی تباہ ہو گئی ہے۔ اس دوران شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ مختلف مقامات پر نشانہ بازوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کا شمار اعتدال پسند مسلم ممالک میں ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں سب سے خونریز ترین دہشت گردانہ حملہ 2000ء میں بالی کے ایک کلب میں کیا گیا تھا، جس میں 202 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ دہشت گردی کی آخری بڑی کارروائی 2009ء میں ہوئی تھی، جب دو بڑے ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انڈونیشی پولیس اب تک دہشت گردوں کے مقامی گروپوں کو کسی حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب رہی ہے تاہم حالیہ دنوں میں عراق و شام میں اسلامک اسٹیٹ کا ساتھ دے کر واپس لوٹنے والے انڈونیشی شہریوں کی وجہ سے خطرات ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے ہیں۔