1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

' دھرنا ختم کرنے کا عدالتی حکم، مذہبی تنظیموں کا انکار ‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کرنے والی مذہبی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق مذہبی تنظیموں نے تاہم یہ دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ  کے جسٹس شوکت عزیز نے آج تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک پٹیشن کی سماعت کی۔  تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اپنی پٹیشن میں انتخابی اصلاحات میں ختم نبوت کی شق ختم کرنے والوں کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔

مذہبی تنظیم ’ تحریک لبیک یا رسول اللہ ‘ کے کارکنان نے اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کے مسودہ قانون میں حلف اٹھانے کی مد میں کی گئی ترمیم کے ذمہ داران کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے۔ تحریک کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ ترمیم کے مبینہ طور پر ذمہ دار وفاقی وزیر زاہد حامد کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے برخاست کیا جائے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسی ہی ایک پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی درج ہے اور اس تحریک کو حکم دیا گیا  ہے کہ وہ اس احتجاج کو فوری طور پر ختم کریں کیوں کہ اس سے عوام مشکلات کا شکار  ہیں۔ یہ دھرنا اسلام آباد اور پنڈی کے جڑواں شہروں کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہ پر دیا گیا جس سے مقامی لوگوں کو تکالیف و مسائل کا سامنا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی میڈیا کے مطابق دھرنا دینے والی تمام مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو اُن کے عہدے سے برخاست کیے جانے تک دھرنا جاری رہے گا۔