1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دھرم شالہ میں دو مردوں نے ریپ کیا: امریکی سیاح کا الزام

ایک امریکی سیاح خاتون نے بھارتی پولیس کو بتایا ہے کہ اُسے دو مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اِس خاتون کے ساتھ کا یہ واقعہ جلا وطن تبتی کمیونٹی کے شہر دھرم شالہ پیش آیا۔

جس امریکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، اُس کی عمر چھیالیس برس ہے اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے بھارت کے مختلف شہروں کی اکیلے سیاحت کر رہی تھی۔ اُس نے پولیس کو بتایا کہ وہ منگل کے روز دھرم شالا کی ایک پرہجوم مارکیٹ سے گزر رہی تھی کہ اُسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کے مطابق شام کےوقت اُس پر یہ حملہ کیا گیا۔ کوہِ ہمالیہ کے دامن میں دھرم شالہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور اِس شہر میں تبت کی جلاوطن بُدھ کمیونٹی سکونت پذیر ہے۔ اِسی شہر میں جلا وطن تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی رہتے ہیں۔

کانگڑا پولیس اسٹیشن کے پولیس سپریٹینڈنٹ ابھیشیک دُھلر کے مطابق قوی امکان ہے کہ دو حملہ آوروں نے خاتون کو بے ہوش کر کے زیادتی کا ارتکاب کیا۔ دُھلر کے مطابق خاتون نے پولیس کے پاس پہنچ کر رپورٹ درج کراتے ہوئے بیان کیا کہ جب اُس کی آنکھ کُھلی تو اُسے محسوس ہوا کہ اُسے ریپ کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا خاتون کا طبی معائنہ کروایا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق جب اُس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تو بازار میں دوکانیں کھلی تھیں اور کئی لوگ اپنے اپنے خاندانوں کے ہمراہ گھوم پھر رہے تھے۔کانگڑا پولیس اسٹیشن کی حدود میں دھرم شالہ واقع ہے۔

Gruppenvergewaltigung Proteste Urteil gegen Teenager in Neu Delhi Indien

سن 2012 میں نئی دہلی کی ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے نے سارے بھارت کو ہلا دیا تھا

خاتون نےپولیس رپورٹ درج کراتے ہوئے بیان دیا کہ پرہجوم مارکیٹ میں چلتے ہوئے دو نامعلوم افراد نے اُس کو دبوچ لیا اور پھر اُسے کچھ یاد نہیں ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان نے واردات سے قبل خاتون کو بے ہوش کرنے کا اسپرے یا کوئی اور طریقہ استعمال کیا اور گرتے وقت اُسے سنبھال لیا۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ابھیشیک دُھلر کے مطابق جس مقام پر خاتون کو دبوچا گیا تھا، وہاں کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔

سن 2012 میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد عدالتی کارروائی تیز اور سخت سزاؤں کے قوانین کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔ اِن سخت قوانین کی موجودگی کے باوجود بھارت میں جنسی زیادتیوں کے سلسلے میں کوئی کمی نہیں دیکھی جا رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات غیر معمولی طور بہت زیادہ ہیں۔ کئی غیر ملکی خواتین بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔