1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دکھی والدین کو سکون کون دلائے؟

پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین ان اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں، جو حکومت ان کے غم کو کم کرنے کے لیے اٹھا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اِن دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔

Asfand Khan Opfer Terrorangriff auf Schule in Peschawar 2014

اسفند خان کے نام پر بنایا گیا حجرہ

سولہ دسمبر کی صبح درآز قد اسفند خان سکول جانے کے لیے تیار ہوا تو ماں نے ہی اسے ناشتہ کرایا۔ سردی کی وجہ سے صبح اس نے اپنا موٹر سائیکل کافی دیر سٹارٹ رکھا تاکہ بیٹری گرم ہو جائے۔ ماں کہتی رہی کہ جلدی جاؤ ورنہ سکول وقت پر نہیں پہنچ پاؤ گے۔ لیکن یہی وہ وقت تھا جب اسفند کی ماں نے اسےجی بھر کر دیکھا تھا۔ یہ ان دونوں کی آخری ملاقات ثابت ہوئی اور کچھ ہی دیر میں خبر آئی کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے۔

خبر سنتے ہی اسفند کے والد ایڈوکیٹ اجون خان عدالت سے اپنا کیس چھوڑ کر اسکول کی طرف بھاگے۔ ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسفند کی والدہ نے بتایا کہ والدین اسکول کے باہر گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سن رہے تھے۔’’باہر فوجی کھڑے تھے جنہیں ہم چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ خدارا ہمیں اندر جانے دو ہمارے بچوں کو بچاؤ لیکن کسی نے ہماری فریاد نہ سنی۔‘‘ اسفند خان جسے اس کی ماں پیار سے سونو کہتی تھی آرمی پبلک سکول کے اس آڈیٹوریم میں موجود تھا جہاں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ وہ اس حملے میں جانبر نہ ہو سکا۔ اس کے والد نے اپنے بیٹے کی یاد میں گھر کے باہر ایک حجرہ بنایا ہے جہاں اپنے بیٹے کی تصاویر لگائی ہیں۔

اسفند کی ماں حال ہی میں پشاور حملے کے چار ملزمان کو پھانسی دیئے جانے پر خوش نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے " ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے حملے کا منصوبہ ساز کون تھا؟ ا سے کس کی مدد حاصل تھی؟ چار لوگوں کو پھانسی دے کر ایک دکھی ماں کے دل کو سکون نہیں پہنچایا جا سکتا"۔

وہ سکول کو فراہم کی گئی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب تو سکول کو بھر پور سکیورٹی دے دی گئی ہے لیکن حملے سے پہلے سلامتی کا معقول انتظام نہیں تھا۔ ان کے بقول باہر سے کوئی بھی دیکھ سکتا تھا کہ سکول میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ اس بات پر بھی نالاں ہیں کہ کوئی ایک بھی ادارہ اس تناظر میں اپنی ذمہ داری صحیح انداز میں نہیں نبھا رہا۔ وہ کہتی ہیں، " خیبر پختونخواہ نے یہ معاملہ فوج کے سپرد کر دیا، فوج کوئی مناسب جواب نہیں دیتی جبکہ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ صوبے کی سکیورٹی کی ذمہ داری تو خیبر پختونخواہ حکومت کی ہے"۔

اپنے بیٹے کے ذکر پر پر نم ماں بتاتی ہیں کہ کیونکہ وہ اسفند خان کو سونو پکارتی تھی اس لیے سب ہی اسے اسفند کی بجائے سونو کہتے تھے۔ اسفند کی والدہ نے بتایا کہ ’’واقعے سے کچھ روز قبل میں نے کہا کہ اسفند بڑا ہو رہا ہے اور ہمیں چاہیے کہ اب اسے اس کے اصلی نام سے پکارا جائے‘‘، جس پر اسفند نے کہا’’ ماں فکر نہ کرو ایک دن سب مجھے میرے اصلی نام سے ہی جانیں گے۔‘‘

آرمی پبلک سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں میں پندرہ سالہ عزیر احمد بھی تھا۔ اس ہولناک واقعہ کو ایک سال ہونے کو آیا ہے لیکن اس کے والدین ایک لمحے کے لیے بھی اپنے بیٹے کو بھلا نہیں پائے۔ ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عزیر احمد کے والد ظہور احمد نے کہا کہ ان کے دوست احباب، رشتہ داروں اور میڈیا نے پشاور حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی یادو‌ں کو تازہ رکھا ہوا ہے۔

Pakistan erster Jahrestag nach dem Terrorangriff auf die Schule in Peschawar

عزیر احمد کرکٹ کا شوقین تھا۔

پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کو حکومت پاکستان کی طرف سے فی کس دس لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ پاکستان کی فوج کی جانب سے والدین کو عمرے پر بھی بھیجا گیا اور تمام ہلاک ہونے والے بچوں کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان بھی کیا گیا۔ ظہور احمد کہتے ہیں کہ انہیں پیسوں سے زیادہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی حکومتی ایوارڈ چاہیے، ایک ایسا ایوارڈ جو ان کے بچوں کی قربانی کے شایان شان ہو۔ وہ کہتے ہیں، "ہمیں ہر وقت کہا جاتا ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے، جب ہمارے بچے مارے گئے تو ہم سکول کے باہر گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سن رہے تھے۔ ان بچوں نے جنگ میں اپنی جانیں کھوئی ہیں، یہ بچے کسی اعلیٰ اعزاز کے مستحق ہیں"۔

اپنے بیٹے کے بارے میں ظہور احمد نے بتایا کہ وہ کرکٹ کا شوقین تھا۔ اس نے اپنے کمرے میں بھی کھلاڑیوں کے پوسٹر لگائے ہوئے تھے اور کھیل کے ساتھ ساتھ وہ پڑھائی بھی دل لگا کر کرتا تھا۔ ساڑھے پندرہ برس کا عزیر احمد نویں جماعت کا طالب علم تھا اور اپنے بابا کا سب سے پیارا دوست بھی۔ اپنے بیٹے کے ذکر پر ظہور احمد کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ یادوں کی دنیا میں گم ہو کر انہوں نے کہا، "اکثر وہ میرے کندھے پر چڑھ جاتا تھا، ایک دفعہ میں نے اسے پیار سے جھڑکا کہ اب تم بڑے ہوگئے ہو، تو عزیر نے مسکرا کر کہا کہ بابا تم مجھے آخر تک اپنے کندھے پر ہی لے کرجاؤ گے۔ اور ایسا ہی ہوا اس کی موت پر میں نے ہی اسے کندھا دیا"۔

ظہور احمد بھی یہ سوال سوالات پوچھتے ہیں کہ کیسے اتنا بڑا حملہ پلان کیا گیا ؟ اور بچوں کو کیوں ایک ہال میں اکٹھا کیا گیا ؟ ظہور کی رائے میں پشاور اور اس جیسے دیگر دہشت گردانہ حملوں کا اندرونی معلومات فراہم ہوئے بغیر کامیاب ہونا ناممکن تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک ملک میں موجود کالی بھیڑوں کا خاتمہ نہیں ہوگا اس ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم نہیں ہو پائے گا۔