1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دُوکُو وائرس نے پری ایمپٹیو حملوں کی افادیت مشکوک کر دی

قومی سطح پر اہمیت کے حامل کمپیوٹر نیٹ ورکس پر Duqu نامی وائرس کے حملوں نے اب پری ایمپٹیو دفاعی حملوں کی افادیت کو مشکوک کر دیا ہے۔

default

اینٹی وائرس تخلیق کرنے والی کمپنیوں نے Duqu نامی وائرس سے نمٹنے کے لیے نئے محاذ کھول دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والا یہ وائرس بظاہر Stuxnet سے مشابہت رکھتا ہے، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ایران کے ایک جوہری بجلی گھر کو متاثر کیا تھا۔

دُوکُو وائرس ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب یورپ میں ایسے دفاعی سائبر حملوں کی تکینک پر غور ہو رہا ہے، جو وائرس کے حملے سے قبل ہی اس پر حملہ آور ہو جائیں۔ تاہم کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ دُوکُو اور سٹکس نیٹ وائرس کی ساخت کو دیکھتے ہوئے پیشگی دفاعی حملوں کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

انٹرنیٹ سکیورٹی فرم Symantec سے وابستہ کینڈڈ وُوئیسٹ Candid Wüest نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ آخر یہ دونوں وائرس کہاں سے حملہ آور ہوئے ہیں: "آپ کے پاس یہ شواہد ہونے چاہییں کہ حملے کے پس پردہ کون ہے تاکہ آپ حملے سے قبل ہی جوابی حملہ کر سکیں۔" واضح رہے کہ Virtual Private Network اور Proxy services جیسے دیگر طریقوں کی مدد سے وائرس بنانے والے بآسانی اپنی مقامیت کو خفیہ رکھ سکتے ہیں۔

Computervirus Virenalarm

کینڈڈ وُوئیسٹ نامی ماہر اور ان کے ساتھی دُوکُو وائرس کے پس پردہ کوڈ کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں فی الحال درجن بھر اداروں میں سینکڑوں کی تعداد میں کمپیوٹر اس وائرس کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایک اور اینٹی وائرس کمپنی McAfee بھی اس وائرس کو جانچنے میں مصروف ہے اور اس کا ابتدائی تجزیہ بھی Symantec جیسا ہی ہے۔ اس ادارے کے ماہرین کا خیال ہے کہ دُوکُو وائرس کے پیچھے وہی لوگ ہیں، جنہوں نے سٹکس نیٹ وائرس کو تخلیق کیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ وائرس امریکی اور اسرائیلی حکومت نے تخلیق کیا تھا۔ ماہرین کے بقول سٹکس نیٹ کے برعکس دُوکُو وائرس یکدم نہیں پھیلتا مگر مخصوص کمپیوٹرز کو ایک معینہ مدت تک متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس فاصلے سے کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے۔ سٹکس نیٹ وائرس نے جرمن کمپنی سیمنز کی بنی ہوئی ایسی مشینری کے نظام پر حملے کیے تھے جو بجلی گھروں، اور تیل و گیس کے نظام سے متعلق ہوتی ہیں۔ دُوکُو وائرس نے البتہ فی الحال سیمنز کے کسی نیٹ ورک کو متاثر نہیں کیا ہے۔ جرمنی میں اب سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطحح پر ایک وزارت کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM