1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دُنیا کے پہلے کمپیوٹر کی 70 ویں سالگرہ

دُنیا کا سب سے پہلا کمپیوٹر 12 مئی 1941ء کو جرمنی میں برلن شہر سے تعلق رکھنے والے موجد کونراڈ سُوزے نے تیار کیا تھا۔ اِس طرح اِس سال اِس کمپیوٹر کی 70 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

دُنیا کی پہلی حسابی مشین

دُنیا کی پہلی حسابی مشین

کپڑوں کی الماری کے سائز کی حساب کتاب کرنے والی مشین دوسری عالمی جنگ کے دوران 21 دسمبر 1943ء کو تباہ ہو گئی تھی تاہم اِس سالگرہ کے موقع پر Z3 نامی اِس کمپیوٹر کا نئے سرے سے تیار کیا گیا ماڈل دیکھا جا سکتا ہے۔ کونراڈ سُوزے کا پیش کردہ یہ کیلکولیٹر تب ایک ٹن سے زیادہ وزنی تھا اور تین سیکنڈ کے اندر اندر ہندسوں کی ضرب اور تقسیم کے عمل مکمل کر سکتا تھا۔

یہ نہ صرف دُنیا کا پہلا کمپیوٹر تھا، جسے اپنی مرضی کے مطابق پروگرام کیا جا سکتا تھا بلکہ یہ دُنیا کا وہ پہلا آلہ تھا، جسے صفر اور ایک کے بائینری سسٹم کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔ اِس کی ذخیرہ کرنے کی استعداد صرف 64 الفاظ تک محدود تھی۔

بابائے کمپیوٹر کونراڈ سُوزے

بابائے کمپیوٹر کونراڈ سُوزے

بابائے کمپیوٹر کونراڈ سُوزے 1910ء میں پیدا ہوئے اور اُن کا انتقال 1995ء میں ہوا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر تھے اور ہینشل طیارہ ساز کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی یہ مشین صرف اپنے چند ایک سائنسدان ساتھیوں کو دکھائی تھی۔ تاہم اُن کے سب سے بڑے بیٹے ہورسٹ سُوزے بتاتے ہیں کہ اتنی بڑی دریافت پر ’نہ تو کوئی بڑا ہنگامہ ہوا اور نہ ہی پریس میں اس کا کوئی چرچا ہوا کیونکہ تب جنگ زوروں پر تھی‘۔

جنگ کے اختتام کے بعد سُوزے نے اپنی ایک کمپنی قائم کی اور اپنی اِس ایجاد کی مدد سے پیسہ کمانے کی کوشش کی۔ تاہم اِس ایجاد نے اُنہیں دولت مند نہیں بنایا۔ اُن کے اپنے ہی وطن جرمنی کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی اُن کے حریف بازی لے گئے، یہاں تک کہ 60ء کے عشرے میں بڑے صنعتی ادارے زیمینز نے سُوزے کے جی نامی کمپنی کو، جو بری طرح سے مقروض ہو چکی تھی، خرید لیا۔

ہورسٹ سُوزے کے مطابق ’میرے والد نے اُس زمانے میں ایک نیا انقلابی کمپیوٹر نظام وضع کیا تھا، جو آج بھی اسٹینڈرڈ مانا جاتا ہے‘

ہورسٹ سُوزے کے مطابق ’میرے والد نے اُس زمانے میں ایک نیا انقلابی کمپیوٹر نظام وضع کیا تھا، جو آج بھی اسٹینڈرڈ مانا جاتا ہے‘

کونراڈ سُوزے کے بیٹے ہورسٹ سُوزے نے، جن کی عمر 65 برس ہے، اپنے والد ہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا انتخاب کیا تھا۔ اب اگرچہ ہورسٹ سُوزے پنشن پر بھی جا چکے ہیں تاہم نت نئی ٹیکنالوجی میں اُن کی دلچسپی بدستور قائم ہے۔

گزشتہ برس اُنہوں نے اپنے والد کے تیار کردہ اصل کمپیوٹر Z3 کے خاکوں کے عین مطابق ایک نیا ماڈل تیار کیا تھا، جس پر اُن کا کافی پیسہ خرچ ہوا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اتنی رقم میں وہ کوئی لگژری کار خرید سکتے تھے۔ ہورسٹ سُوزے کے مطابق ’میرے والد نے اُس زمانے میں ایک نیا انقلابی کمپیوٹر نظام وضع کیا تھا، جو آج بھی اسٹینڈرڈ مانا جاتا ہے‘۔

70 سال پہلے کے کمپیوٹر کی طرز پر بنائے گئے اِس ماڈل کو یکم جولائی سے جرمن شہر پاڈربورن میں پچیس سال پہلے وفات پا جانے والے کمپیوٹر انجینئر نِکسڈورف کے عجائب گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس