1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ديوار برلن کے کچھ حصے کی بحالی

برلن کو مشرقی اور مغربی حصوں ميں تقسيم کرنے والی ديوار کی تعمير کے نصف صدی اور اُس کے گرائے جانے کے دو عشرے گذر جانے کے بعد اب اس ديوار کے کچھ حصے کو ايسے سياحوں کی دلچسپی کے ليے دوبارہ اُس کی اصل جگہ رکھا جا رہا ہے۔

ديوار برلن کا ايک منظر

ديوار برلن کا ايک منظر

بہت سے سياح شہر برلن کے سرد جنگ کے زمانے کی ايک جھلک ديکھنے کے خواہاں ہوتے ہيں۔ کميونسٹ مشرقی جرمنی کے بيچوں بيچ واقع مغربی برلن کے ارد گرد مشرقی جرمنی کی تعمير کردہ اس 100 ميل يا 160 کلوميٹر طويل ديوار کو سن 1989 ميں پائے جانے والے جوش و خروش کے دوران بہت تيزی سے گرا ديا گيا تھا۔ تين اکتوبر سن 1990 کو جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے وقت ديوار برلن کے صرف کچھ ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے ہی باقی رہ گئے تھے۔ مشرقی جرمنی کے محافظ اور نگران سپاہيوں کے 302 بڑے بڑے ٹاورز ميں سے صرف تين ہی باقی بچے تھے۔

برلن کے موجودہ ميئر کلاؤس وويرائٹ نے کہا: ’’عام طور پر يہ شکايت سننے ميں آتی ہے کہ ديوار برلن کو بہت تيزی سے اور بہت زيادہ حد تک تباہ کر ديا گيا۔ آج کے نقطہء نظر سے يہ شکايت قابل فہم ہے اور اگر ديوار کے زيادہ بڑے حصے کو باقی رکھا جاتا، تو شايد يہ سياحوں کے ليے بہتر ہوتا، ليکن اُس وقت ہم سب ہی ديوار برلن کے خاتمے پر انتہائی خوش تھے۔‘‘

سن 1961 ميں مغربی اور مشرقی برلن کی سرحد پر امريکی ٹينک

سن 1961 ميں مغربی اور مشرقی برلن کی سرحد پر امريکی ٹينک

حقيقت يہ ہے کہ 13 اگست سن 1961 کو جس خار دار تاروں سے ڈھکی، کنکريٹ کی ساڑھے تين ميٹر سے بھی کچھ اونچی ديوار برلن کی تعمير کا آغاز کميونسٹ مشرقی جرمن حکومت نے کيا تھا، اُس کے نام و نشان کو مکمل طور پر مٹا دينے کے ليے واقعی زبردست جوش اور جذبہ پايا جاتا تھا۔ لوگوں نے ہتھوڑوں اور کلہاڑيوں کے ذريعے اس ديوار کے ٹکڑے کر کے اس کے اجزاء کو بطور يادگار جمع کيا۔ ديوار کے تقريباً مکمل انہدام کا بقيہ کام بل ڈوزروں نے انجام ديا، جنہوں نے اسے پتھروں اور کنکروں کے ڈھيروں ميں تبديل کرديا تھا۔

نومبر سن 1989 ميں ديوار برلن پر ہزاروں کا مجمع

نومبر سن 1989 ميں ديوار برلن پر ہزاروں کا مجمع

ديوار برلن کے بہت سے ٹکڑوں کو فروخت بھی کيا گيا، جس سے حکومت کو تقريباً 10 لاکھ مارک کی آمدنی ہوئی۔ بقيہ ديوار کو گرانے ميں 600 مغربی جرمن فوجيوں اور مشرقی جرمنی کے 300 سرحدی محافظوں نے مل کر کام کيا۔ اُنہوں نے مشترکہ محنت سے اس بدنام زمانہ ديوار کو تين لاکھ ٹن کنکريٹ کے ڈھير ميں تبديل کر ديا تھا۔

ليکن اب ہر سال جولاکھوں سياح برلن آتے ہيں، وہ يہ پوچھتے ہيں کہ اس تاريخی ديوار کی باقيات اور نشانات کہاں ديکھے جا سکتے ہيں۔ اس ليے اب شہر برلن کی انتظاميہ نے ديوار برلن کے کچھ حصوں کو دوبارہ کھڑا کر ديا ہے اورتعميرات کے تحفظ کے ماہرين مزيد کچھ حصوں کی اُن کی اصلی جگہ پر بحالی پر کام کر رہے ہيں۔

برلن کی فری يونيورسٹی کے پوليٹيکل سائنس کے ماہر يو خن اشٹاٹ نے کہا: ’’شروع ميں کسی نے بھی اس بارے ميں نہيں سوچا تھا کہ ديوار برلن کے کچھ حصوں کو آئندہ نسلوں کے ليے باقی رکھنا ضروری ہے۔ ليکن يہاں آنے والے غير ملکيوں کو ہميشہ اس سے دلچسپی رہی ہے اور وہ ہميشہ يہ پوچھتے ہيں کہ ديوار برلن کہاں ہے۔ برلن اور جرمنی کے، خاص طور پر 30 برس سے کم عمر کے افراد کو اس سے دلچسپی لينے ميں تقريباً ايک عشرہ لگا کہ يہ ديوار آخر کس شکل کی تھی۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM