1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دو ہزار گیارہ کے اختتام تک عالمی آبادی سات ارب

رواں سال کے اختتام پر دنیا کی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جمعرات کو فرانس کے ایک تحقیقی ادارے نے اپنی نئی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی۔

default

نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ڈیموگرافک اسٹڈیز کی پیش گوئی ہے کہ دنیا کی آبادی میں مستقل اضافہ ہوتا رہے گا اور وہ رواں صدی کے اختتام پر 9 سے 10 ارب کے درمیان پہنچ کر مستحکم ہو جائے گی۔

1999ء میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق عالمی آبادی چھ ارب نفوس پر مشتمل تھی، تاہم عالمی سطح پر شرح پیدائش اور شرح اموات کے درمیان فرق میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں محض 12 سال کے عرصے میں اس میں ایک ارب افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ، عالمی بینک اور کئی اہم قومی اداروں کی شمولیت سے کی جانے والی تحقیق پر مبنی رپورٹ کے مطابق انسٹیٹیوٹ کو توقع ہے کہ مزید 14 سالوں میں دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ جائے گی، جس کے بعد اس میں استحکام آنا شروع ہو جائے گا۔

تاریخی اعتبار سے انیسویں صدی سے عالمی آبادی میں اضافے کا عمل جاری ہے۔

China Bevölkerung

2050ء تک بھارت چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ گزشتہ دو سو سالوں میں دنیا کی آبادی میں سات گنا اضافہ ہوا ہے اور وہ 2011ء میں سات ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس وقت دنیا میں سات ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی دنیا کی نصف آبادی کے قریب ہے اور وہاں آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں کا اس میں بڑا کردار ہوگا۔ ان میں چین سرفہرست ہے، جس کی آبادی ایک ارب تینتیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے بھارت میں ایک ارب سترہ کروڑ افراد بستے ہیں۔ دیگر پانچ ملکوں میں بالترتیب امریکہ، انڈونیشیا، برازیل، پاکستان اور نائیجیریا شامل ہیں۔

انسٹیٹیوٹ کا تخمینہ ہے کہ چین میں ایک بچے کی پالیسی سے آبادی کی تعداد معتدل ہونے کے سبب 2050ء تک بھارت اسے پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔

اگرچہ مجموعی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اضافے کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے اور وہ رواں سال 1.1 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خواتین میں بچے پیدا کرنے کی شرح گھٹ کر 2.5 تک رہ گئی ہے، جو کہ 1950ء کے مقابلے میں نصف ہے۔

تاہم اس میں بھی علاقائی تفاوتیں موجود ہیں اور افریقہ میں یہ شرح 4.7 ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یورپ میں یہ محض 1.6 ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس