1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو گھنٹوں تک Youtube بند کیوں رہا؟

کسی بھی ایسی مقبول ویب سائٹ تک رسائی منقطع ہو جانا یقیناً ان سائٹس کے استعمال کرنے والوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا youtubeکے لاکھوں صارفین کو گذشتہ ویک اینڈ پر جب دنیا بھر میں تقریباً دو گھنٹے تک اس سائٹ تک رسائی حاصل نہ ہو سکی۔

default

تعلیمی تحقیق ہو یا معلومات کا تبادلہ ترقی کی راہ پر گامزن اس دنیا میں انٹرنیٹ کی اہمیّت ایک ایسی مسلّم حقیقت ہے جس سے نظر نہیں پھیری جا سکتی۔نیٹ کی اس الگ دنیا میں مطلوبہ مواد کو ڈھونڈنے اور اس تک رسائی کے لئے مختلف ویب سایئٹس موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے عناصر، ابلاغ کے دیگر ذرائع کی طرح ، انٹرنیٹ کو بھی اپنے ذاتی پراپیگنڈا کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

گُوگل اور دیگر سرچ اینجنوں کے علاوہ کچھ ایسے صفحات بھی موجود ہیں جن سے تفصیلی ویڈیو اور آڈیو معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک قدرے مقبول اور کثرت سے زیرِ استعمال رہنے والی ویب سائیٹ ہے Youtube۔ دنیا بھر سے مختلف موضوعات پرvideosاس ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہیں۔

ڈچ سیاستدان Greet Wildersکی اسلام کے خلاف فلم کے ٹریلر کی مذکورہ ویب سائٹ پرنمائش کی اطلاع کے بعد حکومتِ پاکستان نے ملک میں youtubeکو وقتی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتوار کی صبح ایک پاکستانی انٹر نیٹ سروس پرووایڈر (ISP)نے حکومت کے ایما پر اس ویب سائٹ تک پاکستان میں رسائی کو روکنے کے لئے جو اقدامات کئے اُن کی وجہ سے دنیا بھر میں youtubeکی سروس متاثر ہوئی ۔

اس پر لوگوں نے خاصا احتجاج کیا اور ماہرین نے کہا کہ انٹر نیٹ کی سروس مہیّا کرنے والے اداروں یا پرووائیڈرز اور انٹرنیٹ کی اصطلاح میں upstream providersکے درمیان بہتر اشتراکِ عمل کی ضرورت ہے۔ ٹیلی مواصلاتی ماہرین کے مطابق یہ مشکل متعلقہ ISPکی طرف سے ایک غلط انٹر نیٹ رُوٹ فراہم کرنے کی وجہ سے پیش آئی ۔ جسکے باعثyoutubeکے تمام صارفین پاکستان میں ملکی سطح پر بند کئے گئے انٹرنیٹ رُوٹ پر پہنچ جاتے تھے لہٰذا مذکورہ سائٹ پر موجود مواد تک رسائی نا ممکن ہو جاتی تھی۔ مطلب یہ کہ اگر مختلف شعبوں اور اداروں کے مابین رابطے بہتر ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی۔

youtubeکی بندش کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی (PTA)کے ایک اہلکارنے کہا کہ youtube تک رسائی کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پیش آنے والی رکاوٹ ایک غیر ارادی فعل تھا۔ ان کا مقصد مذکورہ ویب سائٹ کو ، مذہبی وجوہات کی بناءپر ، صرف ملکی حد تک اس لئے بلاک کرنا تھا تا کہ وہاں موجوداسلام کے خلاف مبیّنہ طور پر توہین آمیز مواد سے عوام کے جذبات مجروح نہ ہوں۔بیرونی ملکوں میں دو گھنٹے کے تعطل کے بعد صارفین کی youtubeتک رسائی بحال ہو گئی تھی جبکہ پاکستان میں یہ پابندی تب تک نہیں اٹھائی گئی تھی ۔

youtube پر مپاکستان میں یہ سرکاری پابندی منگل کی شام کو اس وقت ختم کی گئی جب اس ویب سائٹ نے متنازعہ وڈیو کلپ کو اپنی سروس سے ہٹا دیا ۔

مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کے حوالے سے سن 2005میں ڈنمارک کے اخبارات میں شائع ہونے والے پیغمبرِاسلام کے متنازعہ کارٹون کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا ۔ رواں ماہ کے آغاز میں ڈنمارک کی پولس نے تین افراد کو ان متنازعہ کارٹونوں کے خالق کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ڈنمارک کے 17اخباروں نے اس کارٹونسٹ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور آزادیءاظہار کے حق میں آواز بلند کرنے کی غرض سے، احتجاجاً ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا تھا۔ ان متنازعہ کارٹونوں کی پہلی اشاعت پر دنیا بھر میں نہ صرف ڈنمارک کے سفارت خانوں پر حملے ہوئے تھے بلکہ پر تشدد ہنگاموں میں کئی افراد بھی مارے گئے تھے۔جبکہ ان کی دوسری بار اشاعت نے بھی مسلم دنیا میں احتجاج کی نئی لہر کو جنم دیا تھا۔