دو مہاجر عورتیں ٹھنڈ لگنے سے ہلاک ہو گئیں | مہاجرین کا بحران | DW | 07.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

دو مہاجر عورتیں ٹھنڈ لگنے سے ہلاک ہو گئیں

بلغاریہ کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شدید سردی کے باعث دو مہاجر خواتین ہلاک ہو گئی ہیں۔ یہ خواتین بلقان راستوں کے ذریعے مغربی یورپ کی جانب سفر کر رہی تھیں۔

شدید سرد موسم کے دوران مشرقی یورپی ممالک میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے ہے۔ اس کے باوجود تارکین وطن انہی ممالک سے گزر کر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلغارین وزیر داخلہ کے مطابق ملک کے پہاڑی علاقوں میں یورپ کی جانب سفر کرنے والی دو مہاجر خواتین شدید سردی کے باعث ہلاک ہو گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق یہ خواتین گیارہ بچوں سمیت 19 پناہ گزینوں کے ایک گروہ کا حصہ تھیں۔

بلغارین پولیس کے مطابق انہیں یہ خواتین ملک کے جنوب مشرق میں واقع مالکو ٹرناوو نامی قصبے کے قریب ملیں۔ ہلاک ہونے والی خواتین کی شہریت کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

بلغاریہ کی وزیر داخلہ رومیانا باچوارووا Rumyana Bachvarova نے ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’دو مہاجر عورتیں ہلاک ہوئی ہیں جن میں سے ایک کم عمر تھی جب کہ دوسری درمیانی عمر کی تھی۔ وہ سردی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ ہمارے سرحدی محافظوں نے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، انہیں اپنی بانہوں میں لے کر حدت پہنچانے کی کوشش بھی کی۔‘‘

مذکورہ خطے میں ان دنوں شدید سردی ہے، درجہ حرات نقطہ انجماد سے بھی نیچے ہے اور تیس سینٹی میٹر (ایک فٹ) سے زیادہ برفباری بھی ہوئی تھی۔

بلغارین وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والی ایک لڑکی کی عمر چودہ اور سولہ برس کے درمیان جب کہ دوسری مہاجر خاتون کی عمر تیس اور چالیس سال کے درمیان ہے۔

تارکین وطن کے اس گروہ کے ہمراہ سفر کرنے والے بچوں کی عمریں چار اور سولہ برس کے درمیان ہیں۔ تمام بچوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بلغاریہ کے ہسپتال کے ترجمان نے فوکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دو بچوں کی حالت ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے تشویشناک ہے۔

بلغاریہ میں شدید سردی کے باعث مہاجرین کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ صوفیہ حکومت کے مطابق اس سے قبل جنوری میں بھی سربیا کے ساتھ متصل سرحد کے قریب دو مہاجرین کی لاشیں ملی تھیں جو سردی کے باعث جم چکی تھیں۔

سرد موسم کے باجود پناہ گزین بلقان ریاستوں کے ذریعے یورپ کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امدادی ادارے بارہا اس تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ مہاجرین کے لیے موسم کی شدت سے بچنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق صرف جنوری کے مہینے میں باسٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن یونان کے راستے یورپ پہنچ چکے ہیں، جن میں سے ایک تہائی تعداد اکیلے سفر کرنے والے کم عمر بچوں کی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات