1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو ملین ڈالر رشوت، روسی وزیر برائے اقتصادی ترقی گرفتار

روس میں اقتصادی ترقی کے نگران وزیر الیکسی اُولیُوکائییف کو مبینہ طور پر دو ملین ڈالر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں ایک ایسی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد گرفتار کیا گیا جو صدر پوٹن کے ماتحت ہے۔

Russland Alexey Ulyukaev Minister für Wirtschaftliche Entwicklung (picture-alliance/dpa/RIA Novosti/Sergey Guneev)

روسی وزیر برائے اقتصادی ترقی الیکسی اُولیُوکائییف کو پیر چودہ نومبر کو رات گئے حراست میں لیا گیا

روسی دارالحکومت ماسکو سے منگل پندرہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس ملکی وزیر کی گرفتاری میں ’تحقیقاتی کمیٹی‘ نامی اس ریاستی ادارے نے مرکزی کردار ادا کیا، جو روس کا اعلیٰ ترین تفتیشی ادارہ ہے اور جو براہ راست روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی ماتحتی میں کام کرتا ہے۔

 الیکسی اُولیُوکائییف 2013ء سے روس میں اقتصادی ترقی کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری انتظام میں کام کرنے والی بہت بڑی روسی تیل کمپنی روسنَیفٹ کو ایک دوسری تیل کمپنی خریدنے کی اجازت دینے کے لیے مبینہ طور پر دو ملین ڈالر رشوت وصول کی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس وزیر کی رشوت خوری کو بے نقاب کرنے میں سابق سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے جانشین اور موجودہ روس میں داخلی سلامتی کے نگران خفیہ ادارے ایف ایس بی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

وفاق روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا کہ الیکسی اُولیُوکائییف کو پیر چودہ نومبر کو رات گئے اس وقت حراست میں لیا گیا، جب وہ دو ملین ڈالر کی یہ رقم رشوت کے طور پر وصول کر چکے تھے۔ ماسکو سے ملنے والی دیگر اطلاعات کے مطابق اُولیُوکائییف نے جس ایجنٹ سے دو ملین ڈالر وصول کیے، وہ اس نقد رقم کے ساتھ داخلی سیکرٹ سروس FSB نے ہی بھیجا تھا۔

Russland Ölgesellschaft Rosnet (picture-alliance/dpa/Y. Kochetkov)

روسنیفٹ سرکاری انتظام میں کام کرنے والی روس کی ایک بہت بڑی تیل کمپنی ہے

2013ء میں اقتصادی ترقی کے وزیر بنائے جانے سے قبل اُولیُوکائییف کئی برسوں تک اسی محکمے کے نائب وزیر بھی رہے تھے اور وہ ایک ’لبرل‘ سیاست دان تصور کیے جاتے تھے۔ اپنی گرفتاری سے قبل رشوت لینے تک اُولیُوکائییف اس بات کے خلاف تھے کہ Rosneft کو، جو ریاستی ملکیت میں کام کرنے والی تیل کمپنی ہے، کسی دوسری کمپنی (Bashneft) کی نج کاری مہم کے دوران اسے خریدنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ بعد میں باشنَیفٹ نامی اس تیل کمپنی کی خرید کا پانچ ارب ڈالر کا ٹینڈر روسنَیفٹ نے ہی جیتا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اُولیُوکائییف 1990ء کی دہائی کے اوائل سے لے کر آج تک روس میں رشوت خوری کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے اعلیٰ ترین روسی سیاستدان ہیں۔

ماسکو میں تحقیقاتی کمیٹی کے ایک بیان اور صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک ترجمان کے مطابق روسی صدر کو اقتصادی ترقی کے اس وزیر کی گرفتاری کے سلسلے میں ایف ایس بی کے آپریشن سے بہت شروع میں ہی باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔

DW.COM