1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دو طرفہ کرکٹ بحال کی جائے، اکرم کی مودی سے اپیل

مایہ ناز سابق فاسٹ بولر ’کنگ آف سونگ‘ وسیم اکرم نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ ان کے ملک کو پاکستان کے ساتھ کرکٹ کا بائیکاٹ کو ختم کر دینا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین دو طرفہ سیریز کا انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے شائقین اچھی کرکٹ سے محروم ہو رہے ہیں۔ وسیم اکرم نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دیں۔

DW.COM

وسیم اکرم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب نئی دہلی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ سیریز پر اپنا فیصلہ روک رکھا ہے۔ یہ مجوزہ سیریز دسمبر میں متحدہ عرب امارت میں کھیلی جانی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قومی کرکٹ ٹیموں نے 2007ء کے بعد سے ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں ہیں۔

2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے نئی دہلی نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کرکٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا تاہم دونوں ملکوں نے 2012ء میں محدود اوورز کی سیریز کھیلی تھی۔ کشمیر کے تنازعے پر دونوں ممالک کی کشیدگی کے باعث بھارت اور پاکستان کے مابین کرکٹ کھیلنے کے امکانات مزید کم ہو چکے ہیں۔

تاہم انچاس سالہ وسیم اکرم نے زور دیا ہے، ’’میں بھارتی وزیر اعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس دورے کی منظوری دے دیں۔‘‘ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم نے مزید کہا، ’’میں نے سنا ہے کہ مودی نے اپنی کابینہ سے کہا ہے کہ انہیں دونوں ممالک کے مابین کرکٹ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘

وسیم اکرم کا مزید کہنا تھا، ’’میں نے نوٹس کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی بھارت کو سپر پاور بنانے کی کوشش میں ہیں۔ بھارت کرکٹ میں سپر پاور ہے، اس لیے یہ بھارت کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کرے اور جہاں ضرورت ہو وہاں دیگر ٹیموں کی ترقی میں بھی کردار ادا کرے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ (مودی) اس دورے کی منظوری دے دیں گے۔‘‘

Cricket Sport Fans Pakistan

’ بھارت اور پاکستان کے مابین دو طرفہ سیریز کا انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے شائقین اچھی کرکٹ سے محروم ہو رہے ہیں‘

دنیائے کرکٹ میں بائیں ہاتھ کے بہترین سابق بولر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کرکٹ کا نہ ہونا دراصل کرکٹ کے لیے ہی نقصان دہ ہے، ’’یہ کرکٹ کا نقصان ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ کا مقابلہ انتہائی جاندار ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں خلوص نیت سے امید کرتا ہوں کہ تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے کرکٹ کو بغیر کسی خلل کے جاری رہنا چاہیے۔‘‘

وسیم اکرم نے 1999ء کے دورہ بھارت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستانی ٹیم بھارت پہنچی تھی تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ تین ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں پاکستان نے دو ٹیسٹ میچ جیت لیے تھے۔ اس کے بعد بھارت نے 2004ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔