1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو سو ’غیر قانونی تارکین وطن‘ بحیرہ احمر میں ڈوب گئے

سوڈان کی سمندری حدود میں ایک کشتی ڈوب گئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباﹰ دو سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

یہ حادثہ سوڈان کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں پیش آیا ہے۔ سرکاری ادارے سوڈان میڈیا سینٹر کے مطابق کشتی پر سوار افراد کا تعلق قریبی افریقی ممالک سے تھا اور وہ مہاجرین تھے۔

یہ لوگ سعودی عرب جا رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف تین افراد کو بچایا جا سکا ہے جبکہ ایک سو ستانوے کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کو لے جانی والی اس کشتی کو سمندر میں چار گھنٹے گزرے تھے کہ اس پر آگ لگ گئی، جس کے بعد وہ ڈوب گئی۔

پولیس ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’’سوڈان میڈیا سینٹر کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات درست ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ مزید معلومات کا انتظار ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کی مبینہ طور پر ملکیت رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں یمنی شہری بتایا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں توکار کے علاقے میں ایک آپریشن کے نتیجے میں عمل آئیں، جو سوڈانی بندرگاہ سے جنوب میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایریٹیریا کی سرحد کے قریب ہے۔

یہ بھی بتایا ہے کہ تقریباﹰ ڈھائی سو افراد کو اسمگل کرنے کی ایک اور کوشش توکار ہی کے علاقے میں ناکام بنائی گئی ہے، جن میں زیادہ تر صومالیہ، ایریٹیریا، چاد اور نائجیریا کے شہری تھے۔

Somalia Mogadischu Islamisten Flüchtlinge

صومالیہ میں ہزاروں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

سوڈان کی ساحلی پٹی آٹھ سو پچہتر کلومیٹر ہے جبکہ ایریٹیریا، ایتھوپیا، چاد اور مصر کے ساتھ اس کی سرحد بھی طویل ہے جس کی وجہ سے سمندر کے راستے عرب جزیرہ نما کو جانے والے کے لیے سوڈان اہم ٹرانزٹ روٹ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے اندازوں کے مطابق شمالی سوڈان میں موجود ایریٹیریا کے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ ہے، جن میں سے بیشتر کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی ادارے کے مطابق صومالیہ میں مخدوش حالات کے باعث محض رواں برس وہاں سے ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM