1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو سو سے زائد بلوچ عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں ہتھیار ڈال دیے

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو سو سے زائد بلوچ عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار ڈال کر حکومتی عمل داری تسلیم کر لی۔ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں میں کئی کالعدم بلوچ تنظیموں کے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

ان بلوچ عسکریت پسندوں نے اپنی مسلح جدوجہد ترک کر کے قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان پیر سات نومبر کو کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو حکومت ’پر امن بلوچستان‘ نامی پیکج کے تحت مالی معاونت بھی فراہم کرے گی۔

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہتھیار ڈالنے والے ان عسکریت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیموں بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور لشکر بلوچستان سے تھا۔ یہ عسکریت پسند گزشتہ کافی عرصے سے صوبے میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندی ترک کرنے والے جن افراد نے آج اپنے ہتھیار ڈال دیے، ان میں 70 ایسے عسکریت پسند بھی شامل ہیں جو ہمسایہ ملک افغانستان سے واپس پاکستان پہنچے ہیں۔‘‘

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے والے علیحدگی پسندوں میں ان کالعدم شدت پسند تنظیموں کے تین اہم کمانڈر میر حیدر خان، نبی بخش بلوچ اور واجہ در محمد بھی شامل ہیں۔

کاکڑ نے مزید کہا، ’’ان بلوچ عسکریت پسندوں نے حکومت سے کچھ عرصہ قبل بعض قبائلی عمائدین کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔ ان عسکریت پسندوں اور ان کے کمانڈروں کا کہنا تھا کہ وہ پر امن شہری بننا چاہتے ہیں اور انہیں بلوچستان پیکج کے تحت ہتھیار ڈالنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پھر  حکومتی رضامندی سے یہ مفرور بلوچ عسکریت پسند کمانڈر اپنے ساتھیوں سمیت پہاڑوں سے اتر کر آج کوئٹہ پہنچے اور انہوں نے اپنے ہتھیار پھینک کر پر امن شہری بننے کا عزم ظاہر کیا ہے۔‘‘

Pakistan Belutschistan Quetta Separatisten (DW/A.G. Kakar)

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثنااللہ زہری، درمیان میں، ایک بلوچ عسکریت پسند سے اس کا راکٹ لانچر وصول کرتے ہوئے

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ وہ قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے والے ان بلوچوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس فیصلے سے ان بلوچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔

صوبائی وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آج صوبے کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ حکومت ’پر امن بلوچستان‘ پروگرام کے تحت ہتھیار ڈالنے والوں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ قومی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے والے یہ افراد ملک دشمن عناصرکے عزائم سے واقف ہو گئے ہیں۔ عسکریت پسند اپنے ذاتی مفاد کے تحت معصوم لوگوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور حکومت اپنی امن کوششوں پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔‘‘

نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ جو لوگ پاکستان دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی سے بلوچستان میں امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ’’ان میں اگر ہمت ہے، تو یہاں آ کر جنگ کریں۔‘‘

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کی جنوبی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ وہ پہاڑوں پر موجود اپنے دیگر بلوچ بھائیوں اور بیٹوں کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے ہتھیار پھینک کر پاکستانی اور بلوچ معاشرے میں عوامی زندگی کا حصہ بنیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا، ’’بیرون ملک بیٹھے لوگ آزادی کے نام پر ملک کو تباہ کر رہے ہیں، جو ایک ناقابل معافی اور ناقابل تلافی جرم ہے۔ بلوچستان کے لوگ صوبے میں امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اب عسکریت پسند بھی آہستہ آہستہ ان حقائق کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کا دل بہت بڑا ہے اور قومی دھارے میں واپس لوٹنے والوں کو گلے لگایا جائے گا۔‘‘

Pakistan Belutschistan Quetta Separatisten (DW/A.G. Kakar)

کوئٹہ میں آج کی تقریب میں مجموعی طور پر دو سو سے زائد بلوچ عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار ڈالے


ہتھیار ڈالنے والے بلوچ عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کی جنوبی کمان کے کمانڈر کا مزید کہنا تھا، ’’اب ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ قومی دھارے میں پھر سے شامل ہونے والے تمام بلوچوں کو تحفظ اور ان کے بچوں کو تعلیم فراہم کرے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ یہی پاکستانی شہری ملک، صوبے اور بلوچ قوم کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔‘‘

اس موقع پر ہتھیار ڈالنے والے کئی بلوچ عسکریت پسندوں کے کمانڈر میر حیدر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں وہ بے علمی کے باعث ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے لیکن اب وہ حقائق جان گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ ہم یہ جان گئے ہیں کہ بلوچستان میں حقوق کے نام پر لڑ ی جانے والی جنگ بلوچوں کے حقوق کی نہیں بلکہ بھارت اور دیگر پاکستان دشمنوں کی جنگ ہے۔ ہمیں ہماری لاعلمی کی وجہ سے استعمال کیا گیا، جس سے نہ صرف ہمارے خاندان تباہی سے دوچار ہوئے بلکہ صوبے میں ترقیاتی عمل بھی سبوتاژ ہوا۔‘‘

ایک اور عسکریت پسند کمانڈر واجہ در محمد کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے ذہنی سکون ملا ہے کہ انہیں حکومت نے پر امن شہری بننے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اپنے وسائل پر حق خود ارادیت چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پہاڑوں میں روپوش ان کے دیگر ساتھی بھی جلد ہی حقائق تسلیم کر لیں گے اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے لگیں گے۔

DW.COM