1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو سال میں شام اور عراق میں داعش کے پینتالیس ہزار جہادی ہلاک

شام اور عراق میں عسکریت پسند تنظیم داعش کے خلاف امریکی قیادت میں دو سال سے جاری عسکری کارروائیوں میں اب تک اس تنظیم کے قریب پینتالیس ہزار جہادی مارے جا چکے ہیں۔ یہ بات امریکی فوج کے ایک سینئر کمانڈنگ جنرل نے بتائی۔

Symbolbild IS Soldaten

داعش کے جہادی، دو سال میں پینتالیس ہزار ہلاکتیں

واشنگٹن سے جمعرات گیارہ اگست کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف امریکی قیادت میں سرگرم بین الاقوامی عسکری اتحاد کے کمانڈر اور امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل شین میکفارلینڈ نے بتایا، ’’ہمارے عسکری اندازوں کے مطابق گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران ہم دشمن (داعش) کے قریب 25 ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اگر اس سے قبل ہلاک کر دیے جانے والے اس گروپ کے دیگر قریب 20 ہزار جہادیوں کو بھی شامل کیا جائے تو گزشتہ دو برسوں کے دوران آئی ایس (’اسلامک اسٹیٹ‘) کے تقریباﹰ 45 ہزار عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل میکفارلینڈ نے یہ بات امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات عراقی دارالحکومت بغداد سے ایک ویڈیو کال میں بتائی۔

اس دوران شین میکفارلینڈ نے یہ بھی کہا کہ ان کی رائے میں اس وقت داعش کے پاس جتنے جہادی باقی بچے ہیں، ان کی تعداد 15 ہزار اور 30 ہزار کے درمیان بنتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت داعش کی قیادت کو اپنی صفوں میں نئے جہادی بھرتی کرنے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

داعش کے خلاف بین الاقوامی عسکری اتحاد کے اس امریکی کمانڈر کے بقول اب اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں اس کے ’اگلی صفوں میں موجود جہادیوں‘ کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔ ان عسکریت پسندوں کی صرف تعداد ہی کم نہی ہوئی بلکہ ان کی جہادی کارروائیوں کی اہلیت اور معیار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

Luftangriff auf die Mühlen von Manbij

دو برسوں میں اتحادی جنگی طیارے داعش کے خلاف شام اور عراق میں ساڑھے چودہ ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں

لیفٹیننٹ جنرل میکفارلینڈ نے صحافیوں کو بتایا، ’’آج یہ جہادی اتنے مؤثر طریقے سے اپنی کارروائیاں نہیں کر پا رہے، جتنی کامیابی سے وہ ماضی میں اپنے مسلح حملے اور لڑائیاں کرتے تھے۔ اس طرح ہمارے لیے انہیں نشانہ بنانا مزید آسان ہو چکا ہے۔‘‘

عسکری ماہرین کی رائے میں دو سال قبل امریکی سربراہی میں داعش کے خلاف عسکری اتحاد کی جنگی کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک یہ دہشت گرد تنظیم شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ اور ’داعش کی نام نہاد خلافت‘ کا حصہ قرار دیے جانے والے مجموعی علاقے میں سے قریب 25 ہزار مربع کلومیٹر یا ساڑھے نو ہزار مربع میل سے زائد علاقے سے محروم ہو چکی ہے۔

عراق میں داعش اب تک اپنے زیر قبضہ جتنے علاقے سے محروم ہو چکی ہے، وہ وہاں اس کے زیر اثر مجموعی رقبے کا قریب 50 فیصد اور شام میں اس کے کنٹرول میں رہنے والے مجموعی علاقے کا تقریباﹰ 20 فیصد بنتا ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران اتحادی ملکوں کے جنگی طیارے داعش کے خلاف شام اور عراق میں مجموعی طور پر ساڑھے چودہ ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں۔

DW.COM