1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

دو روز میں چھ ہزار تارکین وطن سمندر برد ہونے سے بچا لیے گئے

اطالوی کوسٹ گارڈ کے مطابق گزشتہ دو روز میں قریب چھ ہزار تارکین وطن کو مختلف امدادی کارروائیوں کے دوران بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔ ریسکیو آپریشن میں اطالوی بحریہ کے علاوہ دیگر امدادی تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔

Mittelmeer - Flüchtlinge – Boot (Getty Images/AFP/A. Messinis)

جمعے کے روز مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے واقعات میں سات اموات بھی ہوئیں

اطالوی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بروز ہفتہ تین ہزار تارکینِ وطن کو سمندر بُرد ہونے سے بچایا گیا جبکہ اس سے صرف ایک دن پہلے یعنی جمعے کے روز بھی قریب اتنے ہی مہاجرین کو متعدد امدادی کارروائیو‌ں میں سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا گیا تھا۔

 اطالوی کوسٹ گارڈ نے بیان میں یہ بھی کہا کہ دونوں دن کی جانے والی مختلف امدادی کارروائیوں میں اطالوی نیوی، کوسٹ گارڈ، یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں کے بحری جہازوں نے حصہ لیا۔

جمعے کے روز مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے واقعات میں سات اموات بھی ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز بچائے جانے والے پناہ گزینوں میں سے بیشتر کو اٹلی کے ساحلوں تک پنہچا دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ بھی راستے میں ہیں۔ لیبیا کی کوسٹ گارڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اُس نے گزشتہ روز طرابلس سے کچھ  فاصلے پر سمندر میں170 تارکینِ وطن کو ڈوبنے سے بچایا تاہم وسائل ناکافی ہونے کے سبب وہ مزید افراد کو نہیں بچا سکے۔

شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے اٹلی پہلی منزل ہوتا ہے۔ زیادہ تر مہاجرین لیبیا کے ساحلی علاقوں سے کمزور کشتیوں پر سوار ہو کر بحیرہ روم کے پرخطر راستوں سے اٹلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سن دو ہزار سولہ کے دوران تقریباﹰ ایک لاکھ اسّی ہزار افراد اسی سمندری راستے سے اٹلی کے مختلف جزائر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

گزشتہ برس کے پہلے چار مہینوں کے مقابلے میں رواں برس اسی عرصے میں شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے والے افراد کی تعداد میں تیس فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ اطالوی وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار سولہ کے مقابلے میں رواں برس اسی عرصے میں سمندر میں ہونے والی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو ساڑھے آٹھ سو سے بڑھ کر ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

DW.COM