1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’دو دل ٹوٹے، دو دل ہارے‘

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں ہیجڑوں یا خواجہ سراؤں کے ساتھ شادیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں پاکستانی پولیس نےصوبہ خییر پختونخوا میں ایسی ہی ایک شادی سے جوڑے اور چالیس مہمانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

default

ملک اقبال کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہے اور وہ کاشف نامی اٹھارہ سالہ خواجہ سرا سے شادی کرنا چاہتا تھا۔کاشف ’رانی‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ملک اقبال نے رانی سے باقاعدہ شادی کا پروگرام بنایا اوراپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ رانی کے جاننے والوں کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی۔

علاقے کے لوگ، جنہیں پہلے ہی اس رشتے پر اعتراض تھا، ملک اقبال کے اس فیصلے پرمزید سیخ پا ہو گئے۔ انہوں نے جا کر پولیس میں اس شادی کی رپورٹ درج کرا دی۔ پشاور کے ایک علاقے میں شادی کی یہ تقریب جاری ہی تھی کہ پولیس نے چھاپہ مار کر ملک اقبال، کاشف عرف ’رانی‘ اور وہاں موجود تقریباً چالیس مہمانوں کو گرفتار کر لیا۔

Szene aus dem Film Kiss the Moon

اقبال نے’رانی‘ سے شادی کرنے کے لئے اس کے گروکو اسی ہزار پاکستانی روپے دیے تھے

پولیس افسر شاہد خان کا کہنا ہے کہ جس وقت پولیس وہاں پہنچی تو شادی کی تقریب اپنے عروج پر تھی، ناچ گانا جاری تھا اور کھانا بھی تیار تھا۔ جوڑے کے لئے ایک خاص بستر بھی وہاں رکھا ہوا تھا۔ پولیس افسر نے مزید بتایا کہ اس جوڑے کی کچھ تصاویربھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اُن میں پندرہ خواجہ سرا ہیں جبکہ باقی مرد ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ اقبال پہلے سے شادی شدہ ہے اوراس کے بچے بھی ہیں۔ ملک اقبال کھاد کا تاجر ہے اور پشاورمیں اس کی ایک کمرشل عمارت بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقبال نے’رانی‘ سے شادی کرنے کے لئے اس کے گروکو اسی ہزار پاکستانی روپے دیے تھے۔

Szene aus dem Film Kiss the Moon

جس وقت پولیس وہاں پہنچی تو شادی کی تقریب اپنے عروج پر تھی، ناچ گانا جاری تھا اور کھانا بھی تیار تھا

پاکستانی قانون کے مطابق ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ شادی کرنا جرم ہے۔ اس کی سزا کم از کم دس سال قید ہے۔ پولیس نے جوڑے پر بدکاری اورمہمانوں پراس میں تعاون کرنے کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں ایک پاکستانی عدالت نے حکومت کو ہیجڑوں کی جنسی شناخت کو تسیلم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل کوئی تیس ہزار ہیجڑوں نے قومی شناختی کارڈ بنوانے سے اس لئے انکار کردیا تھا کہ اس میں جنسی شناخت میں صرف مرد یا عورت لکھا ہوا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی