دو جرمن ریاستوں میں مہاجرین کی آمد میں نمایاں کمی | مہاجرین کا بحران | DW | 24.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

 دو جرمن ریاستوں میں مہاجرین کی آمد میں نمایاں کمی

جرمن پولیس کے مطابق آسٹریا، چیک ری پبلک اور سوئٹزر لینڈ کے راستے جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

جرمن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امسال نومبر کے آخر تک آسٹریا، سوئٹزر لینڈ اور چیک ری پبلک کی سرحدوں سے ملحق جرمنی کی دو ریاستوں، باویریا اور باڈن ورٹمبرگ میں آنے والے مہاجرین کی تعداد 19،600 رہی۔ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران یہ تعداد 74،000 تھی۔

اسی طرح باویریا کی سرحدی پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے 410 کیس درج کیے جبکہ سال 2016 میں ایسے کیسز کی تعداد 665 تھی۔

باویریا اور باڈن ورٹمبرگ کی ریاستوں میں سرحدی ممالک سے آنے والے مہاجرین کی زیادہ تعداد سولہ سے پینتیس سالہ مرد پناہ گزینوں پر مشتمل تھی اور ان کا تعلق نائجیریا، افغانستان، شام اور عراق سے تھا۔

علاوہ ازیں رواں برس باڈن ورٹبمرگ پہنچنے والے مہاجرین کی اکثریت کینیا، نائجیریا، اریٹیریا، صومالیہ اور گیمبیا کے افریقی ممالک سے تعلق رکھتی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں جرمنی پہنچنے والے نئے پناہ گزینوں اور مہاجرین کی تعداد تقریباً دو لاکھ اسی ہزار تھی جبکہ 2015ء میں آٹھ لاکھ نوے ہزار افراد پناہ کے لیے جرمنی آئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ رواں برس کے دوران اس کمی کی بڑی وجوہات میں بلقان کے ممالک کی سرحدوں کی بندش اور مہاجرین کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کا معاہدہ بھی شامل ہیں۔

DW.COM