1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دو بچے پالیسی: چین کے لیے 30 ملین ورکرز

چینی حکام توقع کر رہے ہیں کہ ملک میں ایک بچہ پالیسی میں نرمی کے باعث 2050ء تک 30 ملین افراد ملک کو بطور لیبر فورس دستیاب ہو سکیں گے۔ یہ بات ایک سینیئر اہلکار نے بتائی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ کمیشن کے ترجمان وینگ پائی آن نے آج 10 نومبر کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جب چین باقاعدہ طور پر ایک خاندان ایک بچہ پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے دو بچے فی خاندان کی اجازت دے دے گا تو ملک میں 90 ملین خواتین اس بات کی اہل ہو جائیں گی کہ وہ دوسرا بچہ پیدا کر سکتی ہیں۔

وینگ کے مطابق نئی پالیسی سے متوقع طور پر ابتداء میں ہر سال قریب تین ملین زائد بچے پیدا ہوں گے۔ چین میں گزشتہ برس 16.87 ملین بچے پیدا ہوئے اور ایک بچہ پالیسی میں نرمی کے بعد یہ تعداد 20 ملین بچے سالانہ ہو جانے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چیز آبادی کے بارے میں چینی اہداف کے عین مطابق ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے علم شماریات کے ماہر لُو جیہوا کا کہنا ہے کہ ہر سال تین ملین اضافی بچوں کی متوقع پیدائش کے ساتھ 30 ملین بہت ہی محتاط اندازہ محسوس ہوتا ہے۔ لُو کے مطابق، ’’شاید یہ بات مد نظر ہو کہ ابتدائی چند سالوں کے بعد شرح پیدائش میں کمی واقع ہو جائے گی۔‘‘

وینگ کے مطابق نوجوان خون چین کی لیبر فورس میں عمر کے حوالے سے تبدیلی پیدا کرے گا، ملک کی بزرگ آبادی میں دو فیصد کمی کا باعث بنے گا اور معاشرے کی عمر رسیدگی کی شرح میں کمی لائے گا۔

چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے

چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے

ایک خاندان کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دیے جانے کی پالیسی کا باقاعدہ آغاز اگلے برس موسم بہار میں ہونا ہے۔ وینگ کے مطابق اس پالیسی کو اپنائے جانے کے بعد جو خواتین دوسرے بچے کی پیدائش کی اہل ہوں گی وہ چالیس برس سے زائد عمر کی ہوں گی۔

نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی پلاننگ کمیشن کے ترجمان وینگ پائی آن کے مطابق ملکی فیملی پلاننگ ورکرز ایک اور بچے کی پیدائش کی درخواستوں پر کارروائی اور بچے کی دیکھ بھال کے لیے والدین کو مشورے دینے کے ذمہ دار ہوں گے۔ وینگ کے مطابق، ’’ان کا کام بڑھ جائے گا اور مشکل بھی ہو جائے گا، لہٰذا اس ٹیم کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین بچوں کی پیدائش پر پابندی مکمل طور پر ہٹانے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس سب سے بڑے ملک کو اپنی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہے۔