1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دو برس بعد ماؤنٹ ایورسٹ کو پھر سر کر لیا گیا

دو سال کے تعطل کے بعد نیپالی گائیڈز کے وضع کردہ نئے نقشوں کی رہنمائی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو دوبارہ سر کر لیا گیا ہے۔ برفانی تودے گرنے اور زلزلے کا بعد کوہ پیمائی کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا تھا۔

کھٹمنڈو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو برس کے وقفے کے بعد آج تین غیر ملکی کوہ پیماؤں تین نیپالی گائیڈر کی مدد سے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سن دو ہزار چودہ میں برفانی تودے گرنے اور پھر سن دو ہزار پندرہ میں آنے والے زلزلے کے بعد دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ پر تمام تر سرگرمیاں روک دی گئی تھی۔ نیپال کی وزارت سیاحت کے ایک سرکاری اہلکار نے جرمن خبر رساں ادارے کو ماؤنٹ ایورسٹ بیس کیمپ سے بتایا، ’’یہ دو سال کے وقفے کے بعد ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے والے پہلے غیر تین ملکی ہیں اور ان میں سے ایک کا تعلق میکسیکو سے ہے۔ یہ ہمارے لئے بڑی کامیابی ہے۔‘‘

سن دو ہزار چودہ میں نیپال میں کوہ پیمائی میں مصروف سولہ مقامی گائیڈز برفانی تودے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ان گائیڈز کے احتجاج اور راستے بند ہو جانے کی وجہ سے ماؤنٹ ایورسٹ پر تمام طرح کی سرگرمیاں روک دی گئیں تھیں۔ بعد ازاں کوہ پیمائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا لیکن سن دو ہزار پندرہ میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا اور اس کے نتیجے میں ایک برفانی تودہ گرنے سے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں موجود انیس کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے اور تب کوہ پیمائی پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی تھی۔

سن دو ہزار چودہ میں پابندی لگنے کے بعد بھی چین کی ایک خاتون وانگ ینگ نے ایورسٹ کو سر کیا تھا لیکن ان کی یہ مہم متنازعہ رہی کیونکہ خاتون نے چڑھائی کا ایک حصہ ہوائی سفر کے ذریعے طے کیا تھا۔ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا موزوں ترین وقت مئی کا وسط ہے کیوں کہ اس دوران وہاں موسم سازگار ہوتا ہے۔

روں برس تقریباﹰ دو سو نوے غیر ملکی کوہ پیما اور چار سو نیپالی چوٹی سر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کو سب سے پہلے سن انیس سو تریپن میں سر کیا گیا تھا۔ یہ کارنامہ نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہلیری اور ان کے نیپالی گائیڈ تینزنگ نارگے نے انجام دیا تھا۔

ملتے جلتے مندرجات