1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دوہزارواں ٹیسٹ: بھارت فالو آن سے بال بال بچ گیا

لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں جاری کرکٹ کی تاریخ کے دو ہزارویں ٹیسٹ میچ میں بھارتی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 286 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

ابھیناؤ موکنڈ

ابھیناؤ مکنڈ

بھارت اور انگلینڈ کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے اس پہلے میچ کا تیسرا دن جب شروع ہوا تو بھارتی ٹیم نے بغیر کسی نقصان کے 17 رنز بنا رکھے تھے۔ بھارتی اوپنر ابھیناؤ موکنڈ نے آٹھ جبکہ گوتم گھمبیر نے سات رنز کے ساتھ دن کا آغاز کیا۔ بھارت کی پہلی وکٹ 63 رنز پر گری جب گوتم گھمبیر 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ گھمبیر کے بعد ابھیناؤ موکنڈ بھی زیادہ دیر تک کریز پر موجود نہ رہ سکے اور بدقسمتی سے نصف سنچری سے محض ایک رن قبل اسٹیورٹ براڈ کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔ اُس وقت بھارت کا مجموعی اسکور 77 رنز تھا۔

بھارتی ٹیم میں راہول ڈریوڈ واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے سنچری اسکور کی۔ انہوں نے ناقابل شکست 103 رنز اسکور کیے۔ عالمی کرکٹ میں اپنی 100ویں سنچری کے متلاشی سچن تندولکر 34 رنز ہی بنا سکے۔ وہ براڈ کی گیند پر سوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

عالمی کرکٹ میں اپنی 100ویں سنچری کے متلاشی سچن تندولکر 34 رنز ہی بنا سکے

عالمی کرکٹ میں اپنی 100ویں سنچری کے متلاشی سچن تندولکر 34 رنز ہی بنا سکے

ان کھلاڑیوں کے علاوہ بھارت کا کوئی بھی بیٹسمین قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا اور پوری بھارتی ٹیم 286 رنز بنا کر پویلین سدھار گئی۔ اسٹیوارٹ براڈ نے چار، ٹریملٹ نے تین اور اینڈرسن نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سوان کے حصے میں محض ایک وکٹ آئی۔

اس سے قبل انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر 474 رنز بناکر اپنی اننگز ڈکلیئر کردی تھی۔ انگلینڈ کے بیٹسمین کیون پیٹرسن نے 202رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

تیسرے دن کا کھیل جب ختم ہوا تو انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے پانچ رنز اسکور کر لیے تھے۔ اس طرح انگلینڈ کو مجموعی طور پر اب بھارت کے خلاف 193 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے، جبکہ اس کے تمام 10 کھلاڑی ابھی باقی ہیں۔

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں جاری کرکٹ کی تاریخ کا دوہزارواں ٹیسٹ میچ دراصل بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں کا 100واں ٹیسٹ بھی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی رینکنگ میں بھارت کی ٹیم اس وقت سر فہرست ہے جبکہ انگلینڈ تیسرے نمبر پر ہے، جو دوسرے نمبر کی ٹیم جنوبی افریقہ سے محض ایک پوائنٹ ہی پیچھے ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM