1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوہزاردس میں پاکستانی میڈیامیں چھانٹیاں،کئی اخباربند

رواں برس میڈیا کارکنوں کو ملازمتوں سے بر طرف کیا گیا ہے،کئی اخبار بند ہو گئے اور بہت سے اخبار ڈمی ہو کر رہ گئے ۔ دھوم دھام سے شروع ہونے والے بہت سے ٹی وی چینلوں نے خراب مالی حالت کی وجہ سے اپنے کام کو بہت محدود کر لیا۔

default

اخبار ڈیلی پوسٹ بھی بند ہو گیا

سن دو ہزار دس میں عارف نظامی کا اخبار پاکستان ٹوڈے اور انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون شروع ہوئے۔ ایک ٹی وی چینل اے آر وائی کی طرف سے نیا اخبار شروع کرنے کے علاوہ ایک مقامی کاروہاری گروپ کی طرف سے بھی نیا ٹی وی چینل شروع کرنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جیو انگلش اور وطین ٹی وی چینلز بن کھلے ہی مرجھا گئے۔ دھوم ٹی وی بھی اپنی نشریات جاری نہ رکھ سکا۔

Terroralarm in London Zeitungsleser in Pakistan

پاکستانی تین بڑے اخبارات اپنے پچیس فی صد صفحات کم کرنے پر مجبور ہیں

اخبار ڈیلی پوسٹ بھی بند ہو گیا۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد ٹی وی چینلز نے اپنا بیشتر عملہ فارغ کر دیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کے سیکریٹری جنرل شمس الاسلام کے مطابق دو درجن سے زائد صحافتی اداروں میں کارکنوں کو تنخواہیں بھی بر وقت ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ ملک کے تین بڑے اخبارات اپنے پچیس فی صد صفحات کم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تجزیہ نگار سلمان عابد کے مطابق نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے صحافتی اداروں کی آمدن میں بھی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔

ممتاز ماہر ابلاغیات جاوید جبار کے مطابق دو ہزار دس سیچوریشن کے ساتھ ساتھ کنفیوژن اور میڈیا کی عدم بلوغت کا سال بھی تھا۔ تاہم ان کے مطابق اس سال انٹرنیٹ جرنلزم کوکافی وسعت ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار پر کوئی قدغن لگائے بغیر حکومت کو ایک قومی ابلاغی پالیسی بنانی چاہیے اور اس مقصد کے لیئے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM