1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دوہری شہریت یا برقعے سے خوف کیوں؟

جرمنی میں حالیہ پے در پے دہشت گردانہ حملوں کے بعد حکمران جماعت اور اُس کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے غیر ملکیوں سے متعلق جرمن قوانین میں سختی کے ضمن میں چند غیر معمولی امور پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

اس میں برقعے پر پابندی اور دوہری شہریت کے خاتمے جیسے موضوعات پر اختلافی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ چند روز قبل وفاقی جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر نے سلامتی کے سخت تر اقدامات کے حوالے سے اپنی چند اہم تجاویز متعارف کروائی تھیں۔ آئندہ ہفتے جرمن وزیر داخلہ اُس مسودے پر بحث کریں گے، جسے ’برلن اعلامیے‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اعلامیے مں ملک کی داخلہ سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے 27 نکاتی تجاویز شامل ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ بحث برقعے پر پابندی عائد کرنے اور دوہری شہریت ختم کرنے جیسے موضوعات پر کی جا رہی ہے۔

دوہری شہریت کا خاتمہ

ماضی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) اور ماحول دوست گرین پارٹی کی کی اشتراک والی حکومت نے دوہری شہریت کو رائج کیا تھا۔ موجودہ حکومتی اتحاد ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں دوہری شہریت کو ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ برلن اعلامیے کے مسودے میں موجود اس تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوہری شہریت غیر ملکیوں کے انضمام کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا سبب ہے۔ اس بارے میں مزید کہا گیا ہے،’’ہم بٹی ہوئی وفاداری کو رد کرتے ہیں، جو غیر ملکی حکومتوں کی سیاست کے لیے سرگرم ہوگا، اُسے ہم جرمنی چھوڑنے کو کہیں گے۔‘‘

دوہری شہریت کا خوف

برلن اعلامیے میں شامل دوہری شہریت کے موضوع پر جرمنی میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اس بارے میں سامنے آنے والے دلائل عجیب و غریب اور دقیانوسی بھی ہیں۔ اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ’’بیک وقت دو ملکوں کا خادم نہیں بنا جا سکتا اور یہ کہ یہ دو ممالک کے شہریوں کی وفاداری کا تنازعہ ہے۔‘‘ دوہری شہریت کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

دوہری شہریت کو ختم کرنے کی تجویز کا تعلق دراصل جرمنی میں آباد ترک نژاد باشندوں سے ہے۔ 2011 ء کی مردم شماری کے مطابق تب جرمنی میں جرمن شہریت کے علاوہ ایک اور شہریت رکھنے والے باشندوں کی تعداد 4,3 ملین تھی۔ ان میں سے قریب نصف ملین باشندے ترک تھے۔ اس کے مقابلے میں جرمنی میں 2011 ء میں ڈیڑھ ملین ایسے ترک باشندے آباد تھے، جن کے پاس جرمن پاسپورٹ نہیں تھا جبکہ جرمن پاسپورٹ رکھنے والے ترک نژاد باشندوں کی تعداد قریب آٹھ لاکھ تھی۔ مجموعی طور پر جرمنی میں آباد 20 فیصد ترک باشندوں کے پاس دو پاسپورٹ یا دوہری شہریت ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ یہ صورتحال جرمن جمہوریت کے لیے کہاں سے خطرے کا باعث ہے؟

ایردوآن کے حامی اصل خطرہ

دوہری شہریت کے موضوع پر بحث نے جرمنی میں اُس وقت سے زور پکڑا، جب گزشتہ ویک اینڈ پر شہر کولون میں جرمن صدر رجب طیب ایردوآن کی حمایت میں ایک بہت بڑے مظاہرے کا انعقاد ہوا۔ ان مظاہروں میں 30 تا 40 ہزار باشندوں نے حصہ لیا۔ یعنی یہ تعداد جرمنی میں آباد دوہری شہریت رکھنے والے ترک نژاد جرمن باشندوں کا چھ سے سات فیصد اور ترکی سے آنے والے تمام تارکین وطن باشندوں کا ڈیڑھ فیصد بنتی ہے۔

جرمن سیاسی حلقوں میں دوہری شہریت کے خاتمے کے بارے میں ہونے والی بحث پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مہاجرت، انضمام اور پناہ گزینوں کے امور کی کمشنر ایدان اؤزوگُز نے کہا،’’دوہری شہریت کے قانون میں ترمیم، دہشت گردی کے موجودہ خطرات کو کسی صورت کم نہیں کرتی۔ جرمنی کے تین مختلف مقامات پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے اور ظالمانہ جرائم کو اس کی مدد سے کسی صورت نہیں روکا جا سکتا تھا۔ یہ ایک بھونڈی دلیل ہے۔‘‘