1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دولت مشترکہ کے نئے سیکریٹری جنرل

دولت مشترکہ تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل کملیش شرما پہلی اپریل سے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔

یوگنڈا کے دارلحکومت کمپالا میں دولت مشترکہ تنظیم کے اجلاس کے موقع پر، شامل ملکوں کے جھنڈوں کا کولاژ

یوگنڈا کے دارلحکومت کمپالا میں دولت مشترکہ تنظیم کے اجلاس کے موقع پر، شامل ملکوں کے جھنڈوں کا کولاژ

اِس بین الاقوامی تنظیم کے سب سے اہم ترین عہدے پر متمکن نیوزی لینڈ کے Donald C McKinnon گذشتہ روز یعنی اکتیس مارچ کو اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔

اُن کی جگہ پہلی اپریل سے بھارت کے چھیاسٹھ سالہ کملیش شرما اس عہدے پر فائز ہوں گے۔ وہ سیکریٹری جنرل بننے سے قبل برطانیہ میں بھارت کے سفیر یا ہائی کمیشنر تھے۔اُن کا ایک عمدہ اور بہترین سفارت کار تصور کیا جاتا ہے۔اُن کا تعلق بھارت کی وزارت خارجہ کی سول سروس سے ہے۔

کملیش شرما کا انتخاب یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقدہ دولت مشترکہ کانفرنس میں کیا گیا تھا۔اُنہوں نے اپنے انتخاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دولت مشترکہ اقوام کا خاندان نہیں بلکہ ایک ایسا خاندان ہے جس میں سب برابر ہیں۔اُنہوں نے اِس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ اِس عہدے پر فائز ہونے کے بعد کامن ویلتھ ملکوں کی عورتوں، کم عمر نوجوانوں کی حالت پر خصوصی توجہ دینے کو ترجیح دیں گے کیونکہ اِن میں شعور اور تعلیم کے فروغ سے ہی یہ طبقہ اپنے اپنے ملکوں میں مرکزی دھارے میں شامل ہو کر قابل قدر کردار نبھانے کے قابل ہو سکے گا۔

عالمی سطح پر جاری عالمگیریت کے حوالے سے بھی اُن کا کہنا تھا کہ یہ ابھرتی اقتصادیات کا منظر نامہ نہیں ہو سکتی بلکہ جزوی عالمگیریت حقیقت میں ناکام عالمگیریت کے زمرے میں آئے گی۔نئے سیکریٹری جنرل کے خیال میں عالمی سطح پر پیدا شدہ اجتماعی مسائل کا حل اجتماعی کوششوں میں مضمر ہے۔کملیش شرما کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ کامن ویلتھ میں شامل بتیس چھوٹی ریاستوں کی معاملات کو پوری توجہ اور تندہی سے حل کرنےکی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ جس نہج پر سبکدوش ہونےوالے سیکریٹری جنرلDonald C McKinnon دولت مشترکہ کوچھوڑکر جا رہے ہیں وہیں سے اُس کو لے گر آگے بڑھنا کملیش شرما کے لیئے مشکل تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔

Donald C McKinnon نے بحثیت سیکریٹری جنرل کامن ویلتھ کے تشخص کو باوقار بنانے میں انتہائی کامیاب کردار ادا کیا ہے۔تنظیم میں شامل چھوٹی ریاستوں کے حقوق کے حوالے سے وہ کافی شفاف سوچ کے حامل تھے ۔ وہ اپنی تنظیم کے ملکوں میں غربت کے خاتمے اور زرعی اقتصادیات کی ترقی کے خواہاں تھے۔دولت مشترکہ کے ملکوں میں جمہوریت اورجمہوری اقدار کے فروغ میں بھی اُن کے کردار بڑا واضح تھا۔اِس مناسبت سے پاکستان میں موجودہ صدر اور سابقہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے حوالے سے ان کے احساسات اور بیانات کا احترام خاصے اہم تھے۔

کامن ویلتھ یا دولت مشترکہ میں ترپن ممالک شامل ہیں اور اِن کی آبادی دو ارب قریب ہے۔