1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دولت مشترکہ کھیل، بے گھر ہوئے دہلی والے

نئی دہلی میں تین اکتوبر سے ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کی چمک دمک کے دوران بھارت خود کو ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت اور اپنی صدیوں پرانی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جی توڑ کوششیں کر رہا ہے ۔

default

افتتاحی تقریب کی تیاریاں

دوسری طرف غریبوں‘ کچی بستیوں میں رہنے والے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگی اور چمک دمک کا تاریک پہلو یہ ہے کہ حکومت دنیا بھر سے یہاں آنے والے کھلاڑیوں، افسران اور سیاحوں کے سامنے بھارت اور بالخصوص قومی دارالحکومت کی خوشنما تصویر پیش کرنا چاہتی ہے۔ سرکاری اہلکار سمجھتے ہیں کہ اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دہلی اور اس کے اطراف میں رہنے والے غریبوں اور اپنا گھر بار چھوڑ کر ہزاروں میل دور سے یہاں روزی روٹی کے لئے آنے والے مزدوروں کو یہاں سے باہر نکال دیا جائے۔

کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں میں مصروف مزدوروں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹس (پی یو ڈی آر) سے وابستہ پرم جیت نے بتایا کہ حکومت نے پچھلے چند ہفتوں سے اس طریقہء کار پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔سکیورٹی کے نام پر کچی بستیوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ لوگوں سے ان کے شناختی کارڈ طلب کئے جا رہے ہیں اور شناختی کارڈ ہونے کے باوجود انہیں زبردستی ٹرینوں میں بٹھا کر دہلی سے باہر بھیج دیا جا رہا ہے۔

Müllsammler in Kalkutta

کامن ویلتھ گیمز کے دوران بھارت کی ایک خوشنما تصویر پیش کرنے کی غرض سے غریبوں کو نئی دہلی سے باہر نکال دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

وسطی دہلی کے حضرت نظام الدین علاقے میں واقع کچی بستیوں میں، جہاں کبھی گہما گہمی دکھائی دیتی تھی، آج سناٹا اور خاموشی ہے۔ صرف چند افراد دکھائی دیتے ہیں، جن کے چہروں پر خوف اور دہشت صاف پڑھی جا سکتی ہے۔ مغربی بنگال سے پندرہ برس قبل یہاں آ کر بسنے والے اندر کمار نے کہا کہ اس کے پاس ووٹر شناختی کارڈ بھی ہے لیکن پولیس والے اس پر اپنی جھگی چھوڑ کر چلے جانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اندر کمار نے بتایا کہ یہاں رہنے والے بیشتر لوگوں کے پاس شناختی کارڈ ہیں، اس کے باوجود پولیس نے انہیں یہاں سے نکال باہر کیا ہے۔

اپنی روزی روٹی کے لئے کشمیر سے یہاں آکر رہنے والے نوجوانوں کی پریشانیاں بھی ان دنوں بڑھ گئی ہیں۔ ایک طرف تو انہیں کوئی کرائے پر مکان دینے کے لئے تیار نہیں ہے، دوسری طرف جن مکانوں میں وہ رہ رہے ہیں، ان کے مالکان پر اپنے مکان خالی کرانے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مجتبٰی نامی ایک کشمیری تاجر نے کہا کہ اب تو ہوٹل والے بھی انہیں کمرے دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

جن اسٹیڈیمز میں کامن ویلتھ گیمز کے مقابلے ہونے والے ہیں، اُن کے اطراف رہنے والوں کی پریشانیاں بھی کم نہیں ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے ان سے کہا ہے کہ بہتر ہے کہ کھیلوں کے دوران وہ یہاں سے باہر چلے جائیں یا کسی بھی مہمان کو آنے نہ دیں۔ اگر کوئی مہمان آ ہی جائے، تو اس کی فوراً اطلاع نزدیکی پولیس بوتھ کو دیں۔

Commonwealth Games Dorf

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کامن ویلتھ گیمز میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کے لئے بنایا گیا وسیع ڈائننگ ہال

دہلی کی تمام اہم سڑکیں ان دنوں خوانچہ فروشوں اور ٹھیلے والوں سے پاک دکھائی دے رہی ہیں ۔ سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بھی شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس نے ان خوانچہ فروشوں سے کہہ دیا ہے کہ وہ کامن ویلتھ گیمز ختم ہونے تک سڑکوں پر دکھائی نہ دیں جب کہ بھیک مانگنے والوں کو دہلی کے باہر دوسری ریاستوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

دریں اثناء یہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو کامن ویلتھ گیمز کے ذریعے اپنی خوشنما تصویر پیش کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ مشہور تھنک ٹینک امیج انڈیا انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی معیشت کو اگلے تین برسوں تک 90 بلین امریکی ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔

امیج انڈیا انسٹی ٹیوٹ کے صدر رابندر سچدیوا کا کہنا ہے کہ اس سے سیاحت پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن کھیلوں کے دوران بھارت کا جو امیج بنا ہے، اُس سے غیر ملکی سرمایہ کاری پر اثر پڑے گا۔ ریٹنگ دینے والے عالمی ادارے موڈی انالیٹکس کے مطابق ان گیمز نے بڑے ایونٹس منعقد کرنے کی بھارت کی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز سے متعلق بدعنوانیوں کے تمام معاملات کی انکوائری کرائی جائے گی اور قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔ فی الحال ان وعدوں پر اعتبار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

رپورٹ: افتخارگیلانی، نئی دہلی

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس