1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دولت مشترکہ سربراہان حکومت کی کانفرنس کا آغاز

برطانوی ملکہ الیزبتھ دوئم نے آسٹریلوی شہر پرتھ میں دولت مشترکہ ممالک کی سربراہی کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ دولت مشترکہ تنظیم میں 54 ممالک شامل ہیں۔

default

دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت ’کامن ویلتھ ہیڈ آف گورنمنٹ میٹنگ‘ (CHOGM) اس برس آسٹریلوی شہر پرتھ میں منعقد کی گئی ہے۔ 85 سالہ ملکہ نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی کہ روایات کے مطابق موجودہ کانفرنس میں بھی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی فیصلے کیے جائیں گے۔

ملکہ کا اپنے افتتاحی خطاب میں کہنا تھا: ’’ اس میٹنگ میں طے پانے والے فیصلوں کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوں یا ان سے کوئی فرد غیر محسوس طریقے سے انفرادی طور پر متاثرہ ہو، ہر حال میں مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ فیصلے مثبت اور پائیدار ہوں گے۔‘‘

ملکہ نے اس موقع پر کانفرنس میں شریک سربراہان کو اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی کہ کیے جانے والے فیصلوں میں اس بات کا دھیان ضرور رکھا جائے کہ یہ محض ایک تنظیم یا حکومت ہی کے لیے نہ ہوں بلکہ یہ تمام لوگوں سے متعلق ہوں۔

آسٹریلوی وزیراعظم جولیا گیلارڈ نے بطور میزبان کانفرنس میں شریک سربراہان کو خوش آمدید کہا

آسٹریلوی وزیراعظم جولیا گیلارڈ نے بطور میزبان کانفرنس میں شریک سربراہان کو خوش آمدید کہا

دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کی کانفرنس ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ برطانوی راج میں شامل رہنے والے 54 ممالک میں سے اکثر کے سربراہان اس میٹنگ میں شریک ہیں۔ تاہم بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے وجہ بتائے بغیر اس کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یورو زون سے متعلق ایک اہم میٹنگ میں شرکت کے بعد پرتھ پہنچیں گے۔

دولت مشترکہ سربراہان حکومت کی اس کانفرنس کے موقع پر آسٹریلیا کے اس مغربی شہر پرتھ میں سکیورٹی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پولیس نے شہر کے مرکزی حصے کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا ہے۔ اس موقع پر پولیس کے ہیلی کاپٹرز فضا میں گشت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف قریب 1500 مظاہرین اس موقع پر پرتھ میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرین افغان جنگ، تارکین وطن سے امتیازی سلوک اور کارپوریٹ اداروں کے طرز عمل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس