’دولت اور طاقت کی نہ ختم ہونے والی ہوس قابل مذمت ہے‘، پوپ | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’دولت اور طاقت کی نہ ختم ہونے والی ہوس قابل مذمت ہے‘، پوپ

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید انسان دوست اور ماحول دوست عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور دولت اور طاقت کی نہ ختم ہونے والی ہوس کی مذمت کی ہے۔

پوپ فرانسس نے دنیا بھر سے نیویارک میں جمع رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہا کہ لالچ اس دھرتی کے وسائل کو تباہ کر رہا ہے اور غربت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ دنیا بھر کے رومن کیتھولک عقیدے کے حامل 1.2 ارب انسانوں کے روحانی پیشوا نے جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں سماجی اور اقتصادی طور پر انسانوں کو الگ تھلگ اور تنہا کر دینے کے رجحانات کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا:’’طاقت اور مادی خوش حالی کی خود غرضانہ اور نہ ختم ہونے والی ہوس ایک جانب دستیاب قدرتی وسائل کے ناجائز استعمال کا سبب بن رہی ہے اور دوسری طرف دنیا کے کمزور اور پسماندہ انسان بہت پیچھے اور تنہا رہ گئے ہیں۔‘‘

دو سال پہلے لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت کے طور پر پاپائے روم منتخب ہونے والے پوپ فرانسس اکثر اپنے بیانات اور تقاریر میں ’بے قابو ہو چکے‘ سرمایہ دارانہ نظام کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اپنے اس خطاب میں بھی اُنہوں نے موجودہ عالمگیر معاشی نظام کو ہدفِ تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف اور اس طرح کے دیگر اداروں کی طرف سے عائد کردہ شرائط سے اقتصادی بحرانوں کو ہوا ملتی ہے۔

78 سالہ پوپ نے دنیا میں امن کی ضرورت پر بھی زور دیا اور یہ بھی کہا کہ دنیا بھر میں تشدد کا نشانہ بننے والی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انسانی تجارت کو روکیں اور جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کریں۔

کرہٴ ارض کے ایک ممکنہ طور پر تاریک مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے پوپ نے کہا:’’ماحولیاتی بحران اور بڑے پیمانے پر حیاتیاتی تنوع کی تباہی خود انسان کی بقا کو خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔‘‘

پوپ کے اس خطاب کو سننے والوں میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو کے ساتھ ساتھ اٹھارہ سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھی، جولڑکیوں کے تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

اس سال اقوام متحدہ اپنے قیام کے ستر برس مکمل ہونے کی تقریبات منعقد کر رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد میں عالمی رہنما جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

پوپ نے امریکا کے دورے کے دوران بھی ایک ماحول دوست پوپ کی شہرت برقرار رکھی اور ایک چھوٹی سی کار میں بیٹھ کر واشنگٹن اور نیویارک میں سفر کرتے رہے۔ اُن کا دورہٴ امریکا اتوار کو فلاڈیلفیا میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ وہ کیوبا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو امریکا کے دورے پر دارالحکومت واشنگٹن پہنچے تھے۔