1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوطرفہ معاہدہ نہ ہو سکا، ایرانی اس سال حج نہیں کر سکیں گے

ایران اور سعودی عرب حاجیوں کے لیے انتظامات کے حوالے سے کسی دوطرفہ معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال ایرانی شہری حج کے لیے سعودی عرب کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

ایرانی وزیر ثقافت علی جنتی نے جمعرات بارہ مئی کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کے لیے انتظامات کے حوالے سے ایران سعودی عرب کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک چار رکنی ایرانی وفد گزشتہ ماہ سعودی عرب گیا تھا، جہاں اس وفد نے سعودی سفارت کاروں سے ملاقاتیں کی تھیں لیکن ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

یاد رہے کہ چند ماہ پہلے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کو پھانسی دی گئی تھی اور اس کے ردعمل میں مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران میں واقع سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے سعودی عرب نے خطے میں اپنے حریف ملک ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں۔

علی جنتی نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’اس سلسلے میں انتظامات مکمل نہیں ہو سکے اور اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ اس ایرانی وزیر نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری سعودی سفارت کاروں پر عائد کی۔ علی جنتی کا مزید کہنا تھا، ’’ان (سعودی حکام) کا رویہ سرد اور نامناسب تھا۔ ویزوں، ٹرانسپورٹ اور زائرین کی سکیورٹی سے متعلق انہوں نے ہماری تجویز قبول نہیں کی۔‘‘

علی جنتی نے سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’سعودی عرب کے حکام نے کہا کہ ہمارے (ایرانی) زائرین کو کسی دوسرے ملک جا کر وہاں حج کی درخواستیں جمع کرانا ہوں گی۔‘‘

دوسری جانب ایرانی حکومت کا اصرار تھا کہ سعودی عرب تہران میں موجود سوئس سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کر سکتا ہے کیوں کہ سفارتی تعلقات ختم ہونے کے بعد یہی یورپی سفارت خانہ ایران میں سعودی مفادات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ سکیورٹی کا تھا۔ گزشتہ برس حج کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کی وجہ سے کم از کم دو ہزار غیر ملکی حجاج ہلاک ہو گئے تھے اور ان میں سے چار سو چونسٹھ کا تعلق ایران سے تھا۔

حج کا موقع گزشتہ برس کے حادثے سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے مابین سفارتی کشیدگی کا باعث بن چکا ہے۔ سن 1987 میں ایرانی زائرین نے حج کے موقع پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، جسے ختم کرنے کے لیے سعودی عرب نے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ اس واقعے میں بھی 275 ایرانیوں سمیت 400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تب ایران اور سعودی عرب کے تعلقات 1991ء تک منقطع رہے تھے۔