1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوشنبہ میں چار فریقی ممالک کا سربراہ اجلاس

دوشنبہ میں منعقدہ چار فریقی ممالک کی سربراہی اجلاس میں روس، پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے صدور نے کئی اہم علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

default

روس اور پاکستان کے صدور نے افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے مکمل انخلاء سے قبل افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کے عمل میں تیزی لائے تاکہ وہ اپنے تئیں ملک کی سلامتی کے تمام تر معاملات سنبھالنے کے قابل ہو سکیں۔ تاجکستان میں منعقد ہونے والی اس علاقائی سمٹ کے بعد پاکستانی صدر آصف علی زردای نے اپنے روسی ہم منصب دمتری میدویدف کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء سے قبل وہاں سیکورٹی کے معاملات میں خلیج پیدا ہونے سے معاملات بگڑ سکتے ہیں۔

جمعہ کے دن تاجک دارالحکومت دوشنبہ میں منعقد ہوئی اس سمٹ میں میزبان ملک کے رہنما امام علی رحمانوف کے علاوہ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی شرکت کی۔ اس سمٹ کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا،’ چاروں ممالک کے سربراہان مملکت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے انخلاء کے عمل کے دوران افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت کو ممکن بنائیں‘۔

Flash-Galerie Deutsche Soldaten in Afghanistan

غیر ملکی افواج کے انخلاء سے قبل افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت ضروری ہے، پاکستانی اور روسی صدور

اس سمٹ کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی سے ایک علیٰحدہ ملاقات کے بعد روسی صدر نے کہا،’ ماسکو حکومت افغانستان کے ساتھ اقتصادی حوالے سے اور وہاں قیام امن کے لیے تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے‘۔ روسی صدر نے مزید کہا کہ افغان فورسز کی استعداد اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ملک میں انتظامی معاملات کو سنبھالنے کے علاوہ انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بھی مناسب اقدامات کر سکے۔

روسی صدر دمتری میدویدف نے ایسی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ 2014ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد ماسکو حکومت افغانستان کے معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن قا ئم کیا جائے۔ میدویدف کے بقول افغانستان میں قیام امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے، جب افغانستان کی مقامی حکومت کو صحیح معنوں میں اقتدار منتقل ہو گا۔

اس سمٹ کے دوران چاروں ممالک نے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے، منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی وسیع تر تعاون پر اتفاق کیا۔

اس سمٹ کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ بھی ایک علیٰحدہ ملاقات کی۔ اس دوران پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے حامد کرزئی کو یقین دلایا کہ اسلام آباد حکومت افغانستان میں قیام امن کو ممکن بنانے کے لیے تمام تر کوشش کرے گی۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان سےغیر ملکی افواج  کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں استحکام، امن اور پائیدار ترقی کو پنپتا دیکھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM