1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دوسری شادی، شوہر کو ہلاک کرکے گوشت پکانے کی کوشش

پاکستانی شہرکراچی میں پولیس نے ایک ایسی خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو ہلاک کرنے کے بعد اس کا گوشت پکانے کی کوشش کی۔

default

جمعرات کو پاکستانی بندر گاہی شہر کراچی کی شاہ فیصل کالونی میں چھاپہ مار کر پولیس نے 32 سالہ زینب بی بی اور اس کے 22 سالہ بھانجے ظہیر کو گرفتار کر لیا۔ زینب بی بی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے بھانجےکی مدد سے اپنے شوہر احمد عباس کو ہلاک کیا۔

پولیس نے انسانی گوشت سے بھرا ایک پیالہ بھی برآمد کر لیا ہے، جو ملزمہ پکانے کے لیے تیار کر رہی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ زینب بی بی نے اپنے شوہر کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ اس سے اجازت لیے بغیر ہی دوسری شادی کا ارادہ رکھتا تھا۔

علاقائی پولیس کے اعلیٰ اہلکار ندیم بیگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاقو بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جس کی مدد سے زینب اور اس کے بھانجے ظہیر نے مبینہ طور پر قتل کی یہ واردات سر انجام دی۔

Pakistan Stadt Karachi Alltag Polizeiwagen

ہمسایوں کی اطلاع پر پولیس نے زینب کے گھر پر چھاپہ مارا

ندیم بیگ نے بتایا، ’انہوں نے احمد عباس کو قتل کیا اور اس کے جسم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے۔ وہ گوشت کے ان ٹکڑوں کو پکانےکے قریب ہی تھے کہ پولیس نے چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا‘۔

پاکستان کے مقامی نجی ٹیلی وژن چینلوں میں ایسے لرزہ خیز مناظر بھی دکھائے گئے، جن میں چولہے پر پکنے کے لیے انسانی گوشت سے بھرا پیالہ تیار تھا۔

پولیس اہلکار ندیم بیگ نے بتایا کہ زینب کے ہمسایوں نے اس وقوعہ کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس سے جڑے محرکات اور حقائق جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ندیم بیگ نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا، ’مقتول کے گوشت کو پکانے کے دو محرکات ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ملزمان شائد تمام شواہد مٹانا چاہتے تھے یا پھر زینب بی بی اپنے شوہر کی دوسری شادی کے ارادے پر اس سے شدید نفرت کرنے لگی تھی، اور نفرت کے اظہار کے طور پر اس نے اپنے مقتول شوہر کے گوشت کو پکانے کا ارداہ بنایا‘۔

پاکستان میں رائج عائلی قوانین کے مطابق مرد کو دوسری شادی کے لیے اپنی پہلی زوجہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ اجازت سن 1962 کے فیملی لاز کے تحت لازمی قرار دی گئی ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی میں اس اجازت کا احترام کسی حد تک دیکھا جاتا ہے لیکن دیہات کی فیوڈل معاشرت میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM