1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوسروں سے زیادہ پاکستان کی مدد کی، ہلیری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں جاری شورش کو روکنے میں مدد کرے۔

default

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن

کلنٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں دہشتگردی کے خلاف کام کر رہا ہے لیکن ابھی کئی اہم اور جلد کرنے والے کام باقی ہیں۔

اسلام آباد میں اعلیٰ پاکستانی سول و فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اعلیٰ حکام کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم نہیں تھا تاہم کوئی نہ کوئی بن لادن کی کچھ مدد کر رہا تھا۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستانی حکام اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں اور امریکہ نے بھی پیشکش کی ہے کہ اگر اس بارے میں اسے کوئی معلومات ملیں تو وہ اسے پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔ ہلیری کلنٹن نے آئی ایس آئی اور فوج کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکی حکام کو اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک رسائی مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا:’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا معمہ حل کر سکیں لیکن میں ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہوں گی کہ ہمارے پاس اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں اعلیٰ حکومتی سطح پر کسی کو اسامہ کی موجودگی کا علم تھا۔‘

Pakistan Anti USA Demonstration

بن لادن کی امریکی آپریشن میں ہلاکت کو پاکستان میں ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے

پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک طویل عرصے سے دوستی کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ دوستی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدمی دکھائی ہے۔ ’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں کیونکہ اسامہ بن لادن تو مر گیا لیکن القاعدہ سے اب بھی خطرہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد ملک بھر میں خودکش حملوں کا بزدلانہ ہتھیار استعمال کر رہے ہیں اور ہمیں مل کر انہیں روکنا ہوگا۔

پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کے بارے میں ایک سوال پر ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو ان فیصلوں اور اقدامات سے آگاہ کریں جو دو طرفہ ملاقاتوں کے نتیجے میں طے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’امریکہ نے پاکستان کو سعودی عرب، چین اور کسی بھی ملک سے زیادہ امداد فراہم کی ہے لیکن میں یہاں کھڑے ہو کر اعتراف کرتی ہوں کہ بہت سے پاکستانی اس بارے میں نہیں جانتے۔‘

انہوں کا کہنا تھا: ’ہم نے سیلاب کے بعد بھی سب سے زیادہ امداد مہیا کی۔ لیکن شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ بہت سے پاکستانی یہ بھی نہیں جانتے۔‘

Pakistan Armeechef General Ashfaq Pervez Kiani und Rao Qamar Suleman

کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی افواج اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں

پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد اور ویزوں کے اجراء میں کمی کے حوالے سے ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سکیورٹی کے لیے ہماری معاونت پاکستانی حکام سے رابطوں اور ان کی درخواست پر مہیا کی جاتی ہے۔ ’ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ساز و سامان اور تربیت موجود ہو۔ ہمارے سیکورٹی اہلکاروں کی پاکستان میں تعداد پاکستانی درخواست اور کام کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے۔‘

اس حوالے سے ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ امریکی تربیت دینے والے عملے کی پاکستان میں موجودگی فوجی حکام کے ساتھ مشاورت سے طے ہوتی ہے اور ان کی تعداد میں کمی بیشی معمول کی بات ہے۔

ادھر دفاعی تجزیہ نگار وائس ایئر مارشل (ر) شہزاد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ وہ بھی امریکی حکام کی طرح اپنے عوام کو اعتماد میں لیں اور انہیں بتائیں کہ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کیا طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ’ہلیری کا پیغام بہت شفاف ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بحال کرنا ہے تو میرے خیال میں یہ دورہ آخری موقع ہے۔ اس کے بعد اگر تعلقات بحال نہیں ہوتے تو مجھے ان کی بحالی کا چانس کم نظر آتا ہے۔‘

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہلیری کلنٹن کا یہ پہلا دورہ پاکستان تھا اور توقع کی جا رہی ہے کہ حال ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے یہ دورہ مدد گار ثابت ہوگا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: شامل شمس

DW.COM