1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوسرا سپر منگل، امریکی صدارتی امیدواری کی دوڑ

منگل کے روز شمالی کیرولائنا اور اوہائیو سمیت پانچ امریکی ریاستوں میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدواری حاصل کرنے والے رہنما میدان میں اترے ہیں۔

شمالی کیرولائنا اور اوہائیو میں عالمی وقت کے مطابق منگل کے روز ساڑھے دس بجے صبح پولنگ کا آغاز ہوا، جب کہ فلوریڈا، ایلینوئس اور میسوری میں پولنگ عالمی وقت کے مطابق گیارہ بجے شروع ہوئی۔

ریپبلکن جماعت کی جانب سے اب تک سب سے آگے ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہ آج کے دن اپنے ایک یا دو حریفوں کو صدارتی دوڑ سے باہر نکال دیں، جب کہ دوسری جانب ڈیموکریٹک جماعت کی ہلیری کلنٹن کی کوشش ہے کہ وہ اپنے حریف بیرنی سینڈرز سے اپنی سبقت بڑھائیں۔

USA Hillary Clinton Selfie in St. Louis

ڈیموکریٹس کی جانب سے کلنٹن اب تک آگے ہیں

ریپبلکن جماعت کی جانب سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ سب سے آگے ہیں، جب کہ ان کے بعد دوسرے نمبر پر ٹیڈ کروز ہیں۔ ڈیموکریٹک جماعت کی طرف سے ہلیری کلنٹن سینڈرز سے آگے ہیں۔

گزشتہ ویک اینڈ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ریلی میں ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے ٹرمپ کو اپنا یہ جلسہ منسوخ کرنا پڑا تھا۔ ان کے مخالفین تاہم اس معاملے میں ٹرمپ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اوہائیو کے شہر ینگس ٹاؤن میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میں آپ سے محبت کرتا ہوں اوہائیو۔ آپ فرق پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

اس ریاست کو امریکی میڈیا انتہائی اہم قرار دے رہا ہے، کیوں کہ اس میں اپنی اپنے جماعتوں کے ارکان سے اعتماد حاصل کرنا تمام امیدواروں کے لیے کھٹن ہو گا۔

امریکی میڈیا میں ویک اینڈ پر ٹرمپ کی انتخابی ریلی میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں اور مظاہروں کی خبریں چھائیں رہی ہیں اور دونوں جماعتوں کی جانب سے ٹرمپ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات ان جھڑپوں کی وجہ بنے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اوہائیو میں فتح غالباﹰ یہ بات ایک طرح سے طے کر دے گی، کی ٹرمپ ہی ریپبلکن جماعت کی جانب سے آئندہ صدارتی انتخابات میں امیدوار ہوں گے۔ امریکا میں رواں برس نومبر میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما دو مرتبہ کی مدت صدارت کے بعد یہ منصب اب نومنتخب صدر کے حوالے کریں گے۔