1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوست دوست نہ رہا:واشنگٹن ہمیں ترا اعتبار نہ رہا

ایک امریکی تحقیقی ادارے کی طرف سے پاکستانی باشندوں میں امریکہ کے بارے میں پائے جانے والے جذبات سے متعلق کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ محض 17 فیصد پاکستانی امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں

default

عافیہ صدیقی کیس پر پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرے

59 فیصد پاکستانی باشندے امریکہ کو پاکستان کا دشمن تصور کرتے ہیں، 11 فیصد کے مطابق امریکہ پاکستان کا حلیف ہے جبکہ محض 8 فیصد پاکستانی صدر باراک اوباما پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔

PEW ریسرچ سینٹر فار پیپل اینڈ پریس کے اس سروے سے پتہ چلا ہے کہ 18 فیصد پاکستانی القاعدہ کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ 2009ء میں ایسے پاکستانیوں کی شرح 9 فیصد تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق 2009ء میں طالبان کے حامیوں کی شرح پاکستان میں 10 فیصد تھی، جو سال رواں کے دوران معمولی اضافے کے بعد 15 فیصد ہوگئی ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے حامی پاکستانیوں کی تعداد میں اس معمولی اضافے کے باوجود جنوبی ایشیا کے اس ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ملک کا کنٹرول انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں آ جانے کا خطرہ ہے۔

Fuel for hate

لا ل مسجد کے باہر بکنے والا پروپگنڈا مواد

اکیاون فیصد پاکستانی اس بارے میں فکر مند ہیں کہ ان کے ملک کی باگ ڈور کہیں انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں نہ آ جائے۔ تاہم 2009ء کے مقابلے میں یہ رائے رکھنے والے پاکستانی باشندوں کی شرح 69 فیصد سے گر کر اس سال 51 فیصد ہو گئی ہے۔ PEW سینٹر کے اس سروے کے نتائج مجموعی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اکثریتی طور پر امریکہ، القاعدہ اور طالبان کے ساتھ ساتھ خود اپنی حکومت سے بھی سخت نالاں ہیں اور ان کے خلاف عوامی جذبات بھی بہت منفی ہیں۔

پاکستانی عوام میں اپنے ملک کی مجموعی صورتحال کے بارے میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ اس کے بڑے اسباب قومی اقتصادی صورتحال، سیاسی سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی اور جرائم ہیں۔ 78 فیصد باشندوں کے خیال میں پاکستانی معیشت شدید بحران کا شکار ہے جبکہ 84 فیصد پاکستانیوں کے لئے موجودہ قومی صورتحال بڑی تشویش کا باعث ہے۔

اس حالیہ سروے سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھو چکے ہیں۔ دو سال پہلے اس بارے میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق 64 فیصد پاکستانی آصف زرداری کے بارے میں مثبت رائے رکھتے تھے۔ تاہم کچھ عرصہ پہلے ہر پانچ میں سے صرف ایک ہی پاکستانی صدر زرداری کے بارے میں مثبت خیالات کا حامل تھا۔

Pakistan Unterzeichnung Abkommen von der Wirtschaftskommission in Gawader

حکومتی وعدوں اور دلاسوں کے باوجود عوام معیشی صورتحال سے بہت زیادہ مایوس ہے

رائے عامہ کے تازہ ترین سروے میں پاکستانی باشندوں سے لشکر طیبہ کے بارے میں بھی اُن کی رائے پوچھی گئی، جس کے جواب میں کافی ملا جلا تاثر سامنے آیا۔ 35 فیصد نے عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا، 40 فیصد نے کسی قسم کی رائے نہ دی جبکہ 25 فیصد نے لشکر طیبہ کے حق میں اظہار رائے کیا۔

کیا پاکستان میں روزگار کی جگہیں مخلوط ہونی چاہیئں؟ اس بارے میں 85 فیصد پاکستانیوں نے اپنا جواب نفی میں دیا۔ بیاسی فیصد کی رائے میں زانیوں کو سنگسار کیا جانا چاہئے اور چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہونی چاہئے۔ قریب 76 فیصد پاکستانیوں کی رائے میں ایک مذہب کے طور پر اسلام سے منحرف ہونے والوں یا مرتدین کو سزائے موت ملنی چاہئے۔

افغانستان کی جنگ

پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ کے ایماء پر جاری جنگ کی پاکستان میں بڑے پیمانے پر مخالفت کی جاتی ہے۔ 65 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی فوراً افغانستان سے نکل جائیں۔ بہت کم پاکسانیوں نے اس بارے میں تشویش ظاہر کی کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء اور طالبان کے ممکنہ طور پر دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان غیر مستحکم ہو جائے گا۔

Obama Rede Weißes Haus

اوباما، کرزائی اور زرداری تینوں صدور پاکستانی عوام میں غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں

محض 25 فیصد نے افغانستان میں طالبان کی ممکنہ فتح کے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ 18 فیصد پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آنا بہتر ثابت ہو گا، 27 فیصد کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ 30 فیصد پاکستانیوں نے اس بارے میں اپنی رائے محفوظ رکھی۔

رپورٹ: کشور مُصطفٰی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس