1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوستی کے لئے بھارت کی جانب غیر معمولی قدم اٹھائے، زرداری

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بہتر تعلقات کی بحالی کی خاطر بھارت کی جانب غیر معمولی قدم اٹھائے گئے تاہم نئی دہلی حکومت اس کا مثبت جواب دینے میں ناکام رہی۔

default

ایوان صدر اسلام آباد کے مطابق صدر زرداری نے یہ بات ساؤتھ ایشین میڈیا کانفرنس کے موقع پر کہی۔ پاکستانی صدر نے واضح کیا کہ الزام تراشی سے بات نہیں بنے گی۔

ادھر بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے باہمی تعلقات میں بہتری کے لئے خود کوششیں کرنی چاہئیں، امریکہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اوباما نے جنوبی ایشیا میں جوہری صلاحیت کے حامل ان دونوں روایتی حریفوں کے بہتر تعلقات کو تیزی سے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن بھارت کے لئے زیاد سود مند قرار دیا۔

Terror in Mumbai

پاکستانی صدر نے تسلیم کیا کہ ممبئی کے واقعے سے تعلقات کی بہتری کی کوششوں کو دھچکا لگا

بظاہر اس بیان کے ردعمل میں پاکستانی صدر نے اسلام آباد حکومت کی ان سفارتی کوششوں کا ذکر چھیڑا ہے، جو نئی دہلی سے تعلقات معمول پر لانے کے لئے کی گئیں۔ صدر زرداری کے بقول، ’’بہت اچھا ہوتا، اگر ہماری کوششوں کو خوش آمدید کہا گیا ہوتا اور ان کا مثبت انداز میں جواب بھی دیا گیا ہوتا۔‘‘

پاکستانی صدر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ممبئی میں 2008ء کی خونریز دہشت گردی سے قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگا۔ پاکستانی صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اس دہشت گردانہ کارروائی کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے مکمل تعاون کر رہا ہے۔

صدر آصف زرداری نے ساؤتھ ایشین میڈیا کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان عسکریت پسندی کے مسئلے سے براہ راست نمٹ رہا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد حکومت کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی بیرونی ملک کے خلاف استمعال کئے جانے کی کبھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا علاقائی سطح پر بہتر معاشی انضمام چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ مختلف مصنوعات پر محصولات ختم کرنے پر بھی تیار ہے۔

Obama Gandhi Indien

امریکی صدر بھارت میں حکمراں جماعت کی سربراہ سونیا گاندھی سے بھی ملے

بھارت اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے خاصا حساس تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے حالیہ دورہء بھارت کے دوران امریکہ کے اہم تجارتی ساتھی اور اپنے میزبان ملک کو ناراض کر سکنے والا کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کے اہم حلیف پاکستان پر کسی حوالے سے انگلی اٹھائی۔

امریکی صدر اپنے موجودہ دورہء ایشیا کے دوران پاکستان نہیں جائیں۔ ان کے اس فیصلے سے اسلام آباد کو کسی حد تک مایوسی ہوئی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما اگلے سال پاکستان جائیں گے اور اپنے پاکستانی ہم منصب آصف زرداری کو واشنگٹن آنے کی دعوت بھی دیں گے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM